Monday, 19 November 2018

عید میلا النبی ﷺ کی شرعی حثیت

کدہ عالم کو نور بخشنے والا وہ پیغمبر بھیجا جس کے ہاتھ میں سیادت رسل
کا علم اور سرپرخاتمیت انبیاء کا تاج تھا۔ اللہ جل جلالہ نے اپنے پیغمبر کو ایسی شریعت کاملہ عطا فرمائی کہ اس کے بعد قیامت تک نوع انسانی کے لیے کسی مذہبی قانون اور نئی شریعت کی ضرورت درپیش نہ ہوگی۔



مگر مسلمانوں نے اس شریعت مطہرہ پرکاربند ہونے کی بجائے ایسے رسوم وقیود اپنالیے جو ہندؤوں اور غیرمسلم اقوام سے درآمد شدہ ہیں جومسلمانوں میں غیرمسلموں کے ساتھ میل جول اوراسلامی تعلیم کے فقدان کے سبب پیدا ہوگئے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ عام سادہ لوح مسلمان ان باطل رسوم کو اسلام کا نام دے رہے ہیں اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ یہ دین ہے۔!!



افسوس ان حضرات پر ہے جوبدعات و رسوم کی حقیقت سے آگاہی کے باوجود محض دنیوی اغراض اور عاجلانہ مقاصد کے حصول اور سیم وزر کی لالچ میں بدعتوں وجاہلانہ روایتوں کو سنت کا نام دے کر عوام کو تاریکی کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں؛ بلکہ ان بدعتوں و خرافات کو سنت ثابت کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں۔



آج کل ہمارے معاشرے میں بدعات و خرافات کارواج ہے، باطل نظریات اور غلط عقائد وافکار کی حکمرانی ہے، اہل باطل ان بدعتوں پر دین کا لیبل چسپاں کرکے عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں اور عوام اس پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں، رفتہ رفتہ وہ بدعتیں پھیل جاتی ہیں اور معاشرے میں اس کی جڑیں مضبوط ہوجاتی ہیں۔ ان بدعتوں میں سرفہرست ”عیدمیلاد النبی“ ہے، جسے معاشرے کے اکثر افراد دین تصور کرتے ہیں اور عبادت سمجھ کر منائی جاتی ہے، جلوس نکالے جاتے ہیں، جلسوں کا اہتمام کیاجاتا ہے، محفل میلاد منعقد کی جاتی ہے۔



یہ ایک سچائی ہے کہ اسلام میں حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کا مقام انتہائی اونچا ہے، کوئی دوسرا وہاں تک رسائی نہیں حاصل کرسکتا، نیز حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کے حالات سے مسلمانوں کو آگاہ کرنا اسلام کا اہم ترین فریضہ ہے اوراس میں مسلمانوں کی کامیابی کا راز مضمر ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کی ولادت خوشی کا باعث ہے۔ مسلمانوں کے دلوں میں حضور صلى الله عليه وسلم کی پیدائش کی خوشی ہونا فطری اور طبعی بات ہے؛ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حضور صلى الله عليه وسلم کی ولادت کی خوشی میں بدعات وخرافات کا سلسلہ شروع کردیا جائے جیساکہ آج کل کیاجاتا ہے۔ آں حضور صلى الله عليه وسلم نے صاف ارشاد فرمایا: تم پر میری اور میرے خلفائے راشدین کی سنت پر عمل کرنا لازم ہے، ان کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور نئی نئی باتوں سے دور رہو؛ اِس لیے کہ دین میں ہر نئی بات (جس کا حکم نہ دیاگیا ہو) بدعت ہے۔ (مستدرک حاکم، ج:۱، ص:۹۶)



اس مروّجہ میلاد کا اسلام میں کہیں ثبوت نہیں ہے؛ بلکہ یہ مروّجہ میلاد ساتویں صدی ہجری کی پیداوار ہے۔ پوری چھ صدی تک اِس بدعت کا مسلمانوں میں کہیں رواج نہ تھا؛ نہ کسی صحابی رضى الله تعالى عنه نے، نہ تابعی رحمة الله عليهنے، نہ تبع تابعین رحمة الله عليه نے عید میلاد نبی منائی، نہ کسی محدث نے، نہ مفسر نے، نہ فقیہ نے؛ بلکہ سب سے پہلے میلاد منانے والی شخصیت موصل کے علاقے اربل کا ظالم، ستم شعار اور فضول خرچ بادشاہ ملک مظفرالدین ہے۔ ۶۰۴ھ میں سب سے پہلے اس کے حکم سے محفل میلاد منائی گئی۔ (دول الاسلام، ج:۲، ص:۱۰۴) امام احمد بن محمد مصری اپنی کتاب ”القول المعتمد“ میں لکھتے ہیں:



اس ظالم اورمسرف بادشاہ (ملک مظفرالدین) نے اپنے زمانے کے علماء کو حکم دیاکہ وہ اپنے اجتہاد پر عمل کریں اور اس میں کسی غیر کے مذہب کا اتباع نہ کریں تو اس وقت کے وہ علما جو اپنے دنیوی اغراض ومقاصد کی سرتوڑ کوششیں کررہے تھے اُن کی طرف مائل ہوئے، جب اُنھیں موقع ملا تو ربیع الاوّل کے مہینے میں عیدمیلاد النبی منانا شروع کیا۔ مسلمانوں میں سب سے پہلے عیدمیلادالنبی منانے والا شخص ملک مظفرالدین ہے جوموصل کے علاقے اربل کا بادشاہ تھا۔“



علامہ انور شاہ کشمیری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: یہ شخص ہر سال میلاد پر لاکھوں روپیہ خرچ کرتا تھا اس طرح اُس نے رعایاکے دلوں کو اپنی طرف مائل کرنا شروع کیا اوراس کے لیے ملک وقوم کی رقم کو محفل میلاد پر خرچ کرنا شروع کیا اوراس بہانے اپنی بادشاہت مضبوط کرتا رہا اور ملک وقوم کی رقم بے سود صرف کرتا رہا۔(فیض الباری، ج:۲، ص:۳۱۹)



علامہ ذہبی رحمة الله عليه رقم طراز ہیں: اس کی فضول خرچی اور اسراف کی حالت یہ تھی کہ وہ ہر سال میلادالنبی پر تقریباً تین لاکھ روپے خرچ کیا کرتا تھا۔ (دول الاسلام، ج:۲،ص:۱۰۳)



ذرا اُس باطل پرست اور کج فکر کی حالت بھی سن لیجئے جس نے محفل میلاد کے جواز پر دلائل اکٹھے کیے اور بادشاہ کو اس محفل کے انعقاد کے جواز کا راستہ بتایا اس کا نام ابوالخطاب عمرو بن دحیہ تھا۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمة الله عليه اُس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں: وہ شخص ائمہ کی شان میں گستاخی کیا کرتاتھا، زبان دراز، بے وقوف اور متکبر تھا اور دینی امور میں سست اور بے پرواہ تھا۔ (لسان المیزان،ج:۴،ص:۲۹۶)



یہ تو میلاد کی ابتدائی تاریخ اور اُس کے موجد پر بحث تھی اب آئیے! علماے متقدمین ومتأخرین اس محفل میلاد کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں۔



علامہ عبدالرحمن مغربی رحمة الله عليه لکھتے ہیں: میلاد منانا بدعت ہے؛ اِس لیے کہ اِس کو حضور صلى الله عليه وسلم نے کیا ہے نہ اِس کے کرنے کو کہا ہے۔ خلفائے کرام نے میلاد منائی ہے اورنہ ائمہ نے۔ (الشریعة الالٰہیہ بحوالہ حقیقت میلاد،ص:۴۱)



علامہ سیوطی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس میلاد کے بارے میں کوئی نص وارد نہیں ہوئی ہے؛ لیکن اس میں قیاس آرائی پر عمل کیا جاتا ہے۔



شیخ الاسلام ابن تیمیہ حرّانی دمشقی رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب ”اقتضاء الصراط المستقیم“ میں تحریر فرماتے ہیں: نصاری میلاد عیسیٰ علیہ الصلاة والسلام مناتے تھے، جب مسلمانوں کی اس طرف نظر ہوئی تو دیکھا دیکھی مسلمانوں نے یہ رسم اختیار کی؛ حال آں کہ سلف صالحین سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اگر یہ جائز ہوتی اوراس کے منانے میں خیر ہوتی، تو پہلے کے لوگ جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے زیادہ محبت رکھتے تھے اوراچھے کام کرنے کے زیادہ حریص تھے؛ وہ مناتے؛ لیکن سلف صالحین کا میلاد نہ منانا یہ اس بات کابیّن ثبوت ہے کہ میلاد مروّجہ طریقے پر منانا درست نہیں ہے۔“



اس میں لوگوں کا یہ اعتقاد ہوتا ہے کہ یہ بڑی عبادت ہے حال آں کہ یہ بدعت ہے اوراس میں محرمات کا ارتکاب ہوتا ہے اور دیگر لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ اگرمیلاد منائی جائے اور اس میں محرمات کا ارتکاب نہ ہو اور وہ تمام مفاسد نہ ہوں جو اس کے منانے میں ہوتے ہیں، تب بھی میلاد منانا بدعت ہے؛ کیوں کہ یہ دین میں زیادتی ہے اوراسلاف کا عمل نہیں ہے۔ اگر یہ کارِ خیر اور کارِ ثواب ہوتا تو سب سے پہلے سلف صالحین مناتے؛ لیکن اُن کا میلاد نہ منانا اس کا ثبوت ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے۔ (مدخل، ج:۱، ص:۳۶۱)



مجدّد الف ثانی رحمة اللہ علیہ اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں: بالفرض اگر آں حضور صلى الله عليه وسلم اس دنیا میں زندہ ہوتے اور یہ مجلس منعقد ہوتی تو آیا وہ اس پر راضی ہوتے اوراس اجتماع کو پسند فرماتے تو اس سلسلے میں بندے کایقین یہ ہے کہ وہ ہرگز اسے قبول نہ فرماتے۔ (دفتر اوّل مکتوب،ص:۱۷۳)



علامہ نصیرالدین الاودی الشافعی علیہ الرحمہ سے کسی نے سوال کیا کہ میلاد منانا کیسا ہے؟ تو انھوں نے جواب میں فرمایا: محفل میلاد نہ منائی جائے؛ کیوں کہ سلف صالحین نے اختیار نہیں کیا ہم اسے کیسے اختیار کرلیں۔ (القول المعتمد)



علامہ شرف الدین رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: بعض امیر لوگ ہر سال محفل میلاد مناتے ہیں، اس میں بہت سے ناجائز تکلّفات پائے جاتے ہیں اور یہ محفل نفس پرستوں کی ایجاد کی ہوئی ہے جن کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ حضور صلى الله عليه وسلم نے کس چیز کا حکم دیا اور کس چیز سے منع کیا؟ اِس لیے یہ بدعت ہے۔ (القول المعتمد)



حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: مروّجہ میلاد اور اس میں مروّجہ قیام محدثہ، ممنوعہ ہیں، جو ناجائز اور بدعت ہیں۔ (عزیزالفتاوی:۹۹)



قطب ارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ محفل چونکہ زمانہٴ فخردوعالم صلى الله عليه وسلم میں اور زمانہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور زمانہٴ تابعین وتبع تابعین اور زمانہٴ مجتہدین میں نہیں ہوئی، اِس محفل کا موجد چھ سو سال بعد کا ایک بادشاہ ہے جس کو اکثر اہل تاریخ فاسق لکھتے ہیں؛ لہٰذا یہ مجلس بدعت اور گمراہی ہے۔ عدم جواز کے واسطے یہ دلیل کافی ہے کہ قرونِ خیر میں اس کو کسی نے نہیں کیا۔ (فتاویٰ رشیدیہ،ص:۴۰۹)



حضرت مفتی محمد شفیع رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: موجودہ مروّجہ میلاد ہمارے نزدیک ناجائز اور بدعت ہے۔ (امداد المفتیین،ص:۷۹)



حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة اللہ علیہ رقم طرازہیں: ذکر ولادتِ نبوی شریف صلى الله عليه وسلم مثل دیگر اذکارِ خیر کے ثواب اور افضل ہے اگر بدعات وقبائح سے خالی ہو۔ اس سے بہتر کیا ہے کما قال الشاعر:



وذکرک للمشتاق خیر شراب * وکل شراب دونہ کسراب



البتہ جیسا ہمارے زمانے میں قیودات اورشنائع کے ساتھ مروّج ہے اس طرح بے شک بدعت ہے۔ (امداد الفتاویٰ،ج:۵،ص:۲۴۹)



سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: میلاد منانا کسی کے لیے بھی جائز نہیں؛ اِس لیے کہ یہ بدعت ہے اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم، صحابہ اور تابعین سے ثابت نہیں۔ (فتاویٰ عبداللہ بن باز،ج:۱،ص:۲۶)



ایک اور جگہ شیخ رحمة الله عليه رقم طراز ہیں: عید منانا خواہ حضور صلى الله عليه وسلم کی پیدائش پر ہو یا کسی اور کی پیدائش پر ناجائز ہے؛ کیوں کہ حضور صلى الله عليه وسلم نے اِس طریقے پر عید نہیں منائی اورنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ عید منائی ہے، سلف امت کا بھی یہی فیصلہ رہا ہے اور خیراُن کی اتباع میں مضمر ہے۔



مولانا بدرعالم میرٹھی رحمة اللہ علیہ رقم طراز ہیں: مروّجہ میلاد حرام ہے؛ اِس لیے کہ یہ میلاد معاصی ظاہرہ وباطنہ پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میں محرمات کا ارتکاب ہوتاہے موضوع روایات پڑھی جاتی ہیں، جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی ہے اور سب سے بڑی غلطی یہ کہ آں حضرت صلى الله عليه وسلم کو عالم الغیب مانا جاتا ہے اور یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ آں حضرت صلى الله عليه وسلم اس محفل میلاد میں تشریف لاتے ہیں ان تمام امور کی وجہ سے اس محفل کا انعقاد حرام ہے۔



تمام علما، ائمہ، محدثین، مفسرین اور مفتیان کا اس پر اتفاق ہے کہ عید میلاد النبی منانا ناجائز اور بدعت ہے۔



عید میلاد النبی کے منانے والوں پر اگر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تواکثر ایسے افراد ملیں گے جو دین سے ناواقف اور احکام شریعت سے نا آشنا ہوتے ہیں؛ لیکن جوں جوں ربیع الاوّل کا مہینہ قریب آتا ہے ان افراد میں جوش وخروش پیداہوتا جاتا ہے اور یہ عیدمیلاد النبی منانے کی تیاری شروع کردیتے ہیں۔ اس کو اپنے تمام گناہوں کا کفارہ گردانتے ہیں۔ ان مجالس میں جن منکرات کاارتکاب ہوتا ہے اس سے اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائیں۔



یہ تھی عیدمیلاد النبی کی حقیقت اور مروّجہ میلاد کی مجالس کے منکرات کہ اس بے دینی کو دین کہا جارہا ہے اور اسے اسلام اور مسلمانوں کے نام سے پیش کیا جارہا ہے اور سادہ لوح عوام بھی پوچھے بغیر اس کو کرنے میں مصروف ہیں اور ان مجالس کے لیے زرکثیر صرف کررہے ہیں۔

خدارا! خواب غفلت سے بیدار ہوجائیے اوران ظاہری دل آویزیوں پر نہ جائیے، ان خرافات کی ظاہری چمک دمک دیکھ کر دھوکے میں نہ آئیے۔ ان بدبختانہ عقائد سے اپنا دامن چھڑائیے اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل پیرا ہونے کا عہد کیجئے، پھر آپ یہ کہہ سکیں گے کہ ہم ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہیں اور فلاح وکامیابی ہمارا مقدر ہے۔



اگر اس کے برعکس عمل کیاتو یاد رکھئے کہ زندگی ایک کتاب کی مانند ہے، ہر روز اس کتاب کا ایک صفحہ پلٹتا ہے اور پورے دن کی کارروائی اس پر محفوظ ہوجاتی ہے جب زندگی کی اس کتاب کے صفحات ختم ہوں گے تو آپ کے اعمال کی یہ کتاب بند ہوجائے گی اور آپ کو قبر میں اتارا جائے گا جہاں بیٹا ہوگا نہ بیوی، بھائی نہ بہن، والد نہ والدہ۔ وہاں آپ اکیلے ہوں گے جہاں آپ کا خاندان آپ کے کام نہیںآ ئے گا، آپ کے ساتھی کام نہ آئیں گے، اگر وہاں کوئی چیز فائدہ دے سکتی ہے تو وہ آپ کے نیک اعمال ہوں گے۔ اس سے ایک قدم آگے میدان حشر میںآ پ کو جواب دہ ہونا ہوگا۔ یہی کتاب اگر آپ کو دائیں ہاتھ میں ملی تو کامیاب خدانخواستہ اگر یہ کتاب بائیں ہاتھ میں ملی تو خسارہ ہی خسارہ ۔



ایسے وقت کے آنے سے پہلے اپنے کیے پر نادم ہوکر توبہ کیجئے اور آیندہ کے لیے حق کو حق کہیے اورحق کا ساتھ دیجئے۔ وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَنْصُرُہ. (۴۰/۱۷)

Saturday, 17 November 2018

17 November: International Students’ Day

For almost 80 years, 17 November has marked International Student’s Day. Its historical background is more tragic than you might suspect.
The historical background: Europe 1933-1939
To better understand the context of what led to the International Students’ Day, it is important to take a look at European history before World War II. In 1933, Adolf Hitler came to power in Germany. Over the following years, the country expressed increasingly aggressive claims over territories outside their borders, but which they considered to belong to the German Reich. In 1938, Hitler annexed Austria, his home country. Soon after, Czechoslovakia was forced into giving up parts of its territory, giving the Third Reich control over the Czech regions, with Slovakia forced to be split and treated as a “satellite state”. All this happened before the Third Reich started its war against Poland in September 1939, which ended with Poland’s capitulation in early October 1939.

Student uprisings in Prague, 1939
Against this backdrop, on 28 October 1939, students at Charles University in Prague held a demonstration to commemorate the 21st anniversary of the independence of the Republic of Czechoslovakia. This demonstration was suppressed brutally by the Nazi occupant forces; 15 students were gravely injured, and one of them later died of his bullet wounds two weeks later.

For the day before his funeral, 15 November 1939, grieving fellow students requested permission for a funeral procession through Prague’s inner city, which was - surprisingly - granted by the protectorate’s government. The procession attracted thousands of students and became more of a demonstration against the Nazi forces. Their reaction, once more, was drastic and brutal. Historians suspect that the protectorate’s government decided to allow the procession because they well expected a violent outcome, and wanted to use that as a pretence to close down all Czech universities, thus weakening rebellious academic activists.

Not only did they close down universities, they also arrested more than 1,200 students and deported them to the Sachsenhausen concentration camp. On 17 November 1939, nine of the protesters - eight students and one professor - were executed without trial. Of the 1,200 deported students, at least 20 did not survive their imprisonment. Universities remained closed until the end of the war, with the exception of the German University in Prague. The two demonstrations in October and November 1939 remained the only larger uprisings of the Czechoslovakian population against the Nazi forces.

In 1941, two years after the events, the International Students’ Council was held in London, United Kingdom, including a number of refugee students. At the Council, it was decided to introduce International Students’ Day on 17 November, the date of the executions, to commemorate this occasion. In subsequent years after World War II, the tradition has been observed by the International Union of Students and a range of other organisations.

 Velvet Revolution, 1989

The Czech Republic and Slovakia may today be the only countries where International Students’ Day is officially observed as a public holiday, even though indirectly: On 17 November 1989, demonstrations and protests related to International Students’ Day sparked a chain of events that ultimately led to the reform of then-socialist Czechoslovakia to a democratic system in a matter of weeks. The revolution was termed “velvet” for its relatively peaceful, non-violent transition of power.

 International Students’ Day today

Today, the Czech Republic and Slovakia observe 17 November as the “Struggle for Freedom and Democracy Day”, a public holiday.

However, the day holds significance in other countries, as well. With its rather sad history, 17 November is today mostly a day for commemoration and a vehicle for student activism. In this context, the most prominent organisation is the Organising Bureau of European School Student Unions (OBESSU). Every year, they raise awareness for students’ rights and needs through various activities, always with the goal to improve higher education for students and for society on a wider scale.

 

Passing Thoughts On The Mawlid


It's that time of the year again... Facebook posts, Twitter tweets, retweets, blog posts, and YouTube videos are soon to surface and have actually already started to surface in regards to the birthday of the Prophet ﷺ (Mawlid). This year's Mawlid cyber war has started. Some will use the oversimplified "Did the Prophet do it?" argument, whilst others will use the also oversimplified "they hate the Messenger ﷺ" argument.

In the midst of these emotions, the truth will be hard to determine. Moreover, each party seems to be talking over the other. The reality is that the difference of opinion on this matter, like many other matters, is a longstanding difference of opinion among the scholars of Islam and Muslims will continue to differ on this for the foreseeable future. The likes of al-Suyūṭī, Ibn Taymiyyah, Abu Shāmah, Ibn Ḥajar, Ibn al-Ḥāj and al-Fākihānī are involved in this discussion and no tweet, Facebook post, or blog post is going to solve this.

In fact, there is so much talking past one another that occurs on this matter that some who champion one view over another are not even aware that their opposition enjoys a rich variety of scholars who uphold the opposing view. From a practical perspective, there are too many other things that our ummah is grappling with for this to even be a matter of serious concern.

If you would like to attend a Mawlid, do so, but don't have ill feelings for your brother who doesn't attend with the premise that it was not something that the Messenger ﷺ did, because disdaining your brother is a major sin and attending a Mawlid is a virtuous innovation at best. Moreover, ensure that the conduct of the gathering you choose to attend is, in fact, a religious conduct. Do not make it a day or month to take cheap shots at your fellow Muslims who follow a position different than yours. Rather, keep it as a day in which you recall the legacy our beloved Messenger Muhammad ﷺ to which all Muslims equally make claim.

If you choose not to attend with the fear that it may be a reprehensible innovation, then this will be a fear for which you will be rewarded, inshaAllah. Your love to practice the prescriptions of the Messenger ﷺ is truly commendable. However, complete adherence to the prescriptions of our beloved Messenger ﷺ would dictate that we discuss and not argue, guide and not smear, teach and not enforce.

Lastly, as I said to the attendee, your absence whilst disdaining the attendees is a major sin, whereas attendance with a good intention is an innovation with a good deed at worst, as pointed out by Ibn Taymiyyah (r).

May Allah be with you all and help the ummah unite in public and behind closed doors.
Engr Israr Ahmad

#Mawlid #ProphetsBirthday #Milaad #EidMilaad #Bidah #GoodBidah #BadBidah

مسلمان عادل حکمران کی صفات

شریعت مطہرہ نے بتادیا ہے کہ عادل مسلم امیر کی اللہ کے ہاں بہت قدرومنزلت ہے اس کے لیے بہت بڑا اجر ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ ایسا امیر قیامت کے دن اللہ کے (دیئے ہوئے)سائے میں ہوگا جس دن کے کسی کو سایہ نہیں ملے گا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :سات قسم کے افراد قیامت کے دن سائے میں ہوں گے جس دن کہ صرف اللہ کے فراہم کردہ سائے کے علاوہ کہیں سایہ نہیں ہوگا۔(بخاری۔مسلم۔احمد۔نسائی)

امام عادل قیامت کے دن رحمان کے دائیں جانب نور کے منبر پر ہوگا

عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:انصاف کرنے والے قیامت کے دن اللہ کے دائیں طرف ہوں گے وہ لوگ کہ اپنی حکومت اور گھر میں عدل وانصاف کرتے تھے (مسلم ۔نسائی۔احمد)

۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :قیامت کے دن اللہ کو سب سے زیادہ نا پسند یدہ اور سخت عذاب کا مستحق ظالم امام وحکمران ہوگا
(احمد۔بھیقی۔ترمذی )

طبرانی نے اسے عمر سے مرفوعاً روایت کیا ہے جس میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے افضل مرتبے والاامام عادل رفیق ہوگااور سب سے بدترین آدمی امامِ ظالم ہوگا ۔

اگر امام تقوی کے مطابق حکومت کرتا ہے اور عدل قائم رکھتاہے تو اس کے لیے بہت بڑا اجر ہے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
امام ڈھال ہے جس کی آڑ میں قتال کیا جاتا ہے اور دفاع ہوتا ہے اگر وہ تقوی اور عدل سے حکومت کرتا ہے تواس کے لیے اجر ہے اور اگر اس کے مطابق حکومت نہیں کرتا تو اس کے لیے عذاب ہے ۔
(بخاری۔مسلم۔ابوداؤد۔نسائی)

امام عادل کی کوئی دعا ردّ نہیں ہوتی اس لیے کہ اللہ کے ہاں اس کی قدومنزلت اور عزت ہوتی ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تین قسم کے افراد ہیں جن کی دعا رد نہیں ہوتی :
۱۔ امام عادل
۲۔ روزہ دار جب تک روزہ افطار نہ کرے
۳۔ مظلوم کی دعا بادلوں کے اوپر چلی جائے گی قیامت کے دن اور آسمان کے دروازے اس کے لیے کھول دیئے جائیں گے اللہ فرمائے گا مجھے میری عزت کی قسم میں تیری مدد ضرور کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو(ترمذی اور اس حدیث کو حسن کہا)۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کی دعا ردّ نہیں ہوتی اللہ کابہت ذکر کرنے والا۔مظلوم اور امام عادل ۔(بہیقی شعب الایمان بسند حسن)

عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے :عہدے کا آغاز ملامت ، دوسری ندامت اورتیسرا عذابِ قیامت الا یہ کہ عدل کیا جائے ۔(طبرانی۔بزار سند صحیح ہے)

طبرانی میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے بہترین چیز عہدہ ہے جس نے حق کے ساتھ لیا اور بدترین چیز عہدہ ہے جس نے بغیر حق کے لیا اس کے لیے قیامت میں حسرت ہے۔

ابن عمر رضی اللہ عنہماسے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اللہ جس شخص کو بندوں پر حکمران مقرر فرمادے چاہے لوگ کم ہوں یا زیادہ قیامت میں اللہ ان کے بارے میں سوال کرے گا کہ ان میں اللہ کے احکام نافذ کیے یانہیں ؟یہاں تک کہ گھر والوں کے بارے میں بھی (یہی)سوال کیا جائے گا۔(احمد)

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اللہ ہر اس آدمی سے جسے کسی کا نگہبان وحکمران مقرر کیا ہے یہ سوال کرے گا کہ اپنے ماتحتوں کا تحفظ کیا یا نہیں ؟یہاں تک کہ آدمی سے اس کے گھر کے بارے میں سوال ہوگا۔(نسائی ۔ابن حبان)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے دس آدمیوں پر بھی اگر کوئی امیر ہو تو اسے قیامت کے دن ہتھکڑیاں لگا کر لایاجائے گا اس کا انصاف یا تو اسے بچالے گا یااس کا ظلم اسے ہلاک کردے گا۔

ابوامامہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں جوبھی آدمی دس یا ان سے زیادہ آدمیوں کاامیر بنتاہے قیامت کے دن اسے اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن میں باندھا گیا ہوگایا اس کی نیکی اسے چھڑالے گی یا اس کا گناہ اس کو باندھ دے گا۔(احمد۔بہیقی۔ابویعلی۔طبرانی میں مختلف الفاط سے یہ روایت صحیح سند سے مروی ہے)

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ظالم حکمران کو ہوگا۔(طبرانی فی الاوسط۔ابونعیم فی الحلیۃ ،ابویعلی فی مسندہ)

ابن المبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں :اللہ حکمران کے ذریعے ظلم ختم کرتا ہے یہ ہمارے دین ودنیا کے لیے رحمت ہے اگر خلافت نہ ہوتی تو راستے محفوظ نہ ہوتے اور طاقتور کمزوروں کو لوٹ لیتے ۔

عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے رسول اللہ سے صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو بھی امام ،حکمران ضرورت مندوں اور غریبوں کے لیے بند رکھتا ہے اللہ اس کے لیے آسمانوں کے دروازے بند کردیتا ہے معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی ضروریات اور حاجات کے لیے آدمی مقرر کردیا۔(احمد۔ترمذی۔ابوداؤد۔ابویعلیٰ۔حاکم)

ابومریم ازدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ جس کو مسلمانوں کے امور کا نگہبان بنادے اور وہ ان کی ضروریات وشکایات سننے کے بجائے درمیان میں رکاوٹیں کھڑی کردے اللہ اس کے لیے رکاوٹیں پیدا کردیتا ہے ۔ایک روایت میں ہے اللہ جس کو مسلمانوں کا حاکم بنائے پھر وہ مظلوموں اورمساکین کے لیے دروازے بندکردے اللہ اس کے لیے اپنی رحمت کا دروازہ بند کردیتا ہے حالانکہ یہ اللہ کی رحمت کا زیادہ محتاج ہوتا ہے۔(ابوداؤد۔حاکم۔بیہقی۔بسند صحیح)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت امام المسلمین عوام کے حالات کاجائزہ لیتے تھے ۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :رسول صلی اللہ علیہ وسلم مریضوں کی عیادت کرتے تھے جنازے میں جاتے عام لوگوں کی دعوت قبول کرتے تھے ۔(ابن ماجہ۔حاکم۔ابویعلیٰ۔ابن ابی شیبہ۔طبرانی)

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ راستے میں تھے کہ ایک عورت نے آکر کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آپ سے کچھ کام ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے ام فلاں کسی بھی گلی کے ایک طرف بیٹھ جا میں بات کرلیتا ہوں۔اس نے ایسا ہی کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بات کی اور جو اس کی ضرورت تھی وہ پوری کرلی ۔(احمد ۔ابوداؤد)

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:نماز کے لیے تکبیر ہوجاتی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی آدمی کے ساتھ اس کی کسی ضرورت کے لیے بات کرتے بعض دفعہ بات اتنی طویل ہوجاتی کہ بعض لوگ اکتاجاتے۔(بخاری۔احمد۔عبدالرزاق)

رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے:تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اپنی ذمہ داری کے لیے جوابدہ ہے ۔امام اپنے عوام کے لیے ،آدمی اپنے گھر کے لیے ،نوکر مالک کے مال کے لیے جوابدہ ہے میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایاتھا کہ آدمی اپنے باپ کے مال کا ذمہ دار ہے اوراس کے لیے جوابدہ ہے ۔(بخاری۔مسلم)

)

عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعاکرتے تھے ۔اے اللہ جو شخص میری امت میں سے کسی معاملے کا نگہبان بنے اور وہ امت پر سختی کرے تو بھی اس پر سختی کر اور جو حکمران نرمی کرے اللہ توبھی اس نرمی کر۔(مسلم۔احمد)

عائذ بن عمرورضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بدترین حکمران وہ ہے جو ظالم اور سختی کرنے والا ہو۔(بخاری۔مالک)

حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں :عبیداللہ بن زیاد معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے پاس گئے وہ اس وقت تکلیف وبیماری میں مبتلا تھے انہوں نے کہامیں تمہیں ایک حدیث سنانا چاہتاہوں جو میں نے پہلے تمہیں نہیں سنائی ۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اللہ جب کسی کو لوگوں پر حکمران بنادیتا ہے اور وہ لوگوں کے ساتھ دھوکہ کررہا ہوتومرنے کے بعد اللہ اس پر جنت حرام کردیتا ہے ۔(بخاری۔مسلم۔ابن حبان)

۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا:جو بھی شخص مسلمانوں کا حکمران بنتا ہے ان کے لیے کوشش نہیں کرتا ،خیرخواہی نہیں کرتا وہ جنت کی خوشبونہیں پائے گا حالانکہ وہ خوشبو سو سال کی مسافت تک آتی ہے۔(احمد ۔طبرانی۔ابن ابی شیبہ۔ابن عبدالبر۔ابونعیم)

ایک روایت میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو شخص بھی مسلمانوں کا امیر بنتا ہے اور امت کے لیے خیر خواہی اور کوشش نہیں کرتا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔(مسلم ۔ابوعوانہ۔بیھقی)

ایک روایت میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:جس حکمران نے اپنے عوام کے ساتھ فریب کیا وہ جہنم میں جائے گا ۔(طبرانی۔ابوعوانہ ۔ابن عساکر)

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(دجال کاذکر کرتے ہوئے)میں تمہیں اس سے ڈراتاہوں اور ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے مگر میں تمہیں اس کے بارے میں ایسی بات کرتاہوں جو کسی نبی نے نہیں کی اور وہ یہ کہ وہ بھینگا ہے جب کہ رب بھینگا نہیں ہے۔(بخاری ۔مسلم ودیگر بہت سی کتب …)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے مال چھوڑا وہ اس کے ورثاء کا ہے او ر جس نے قرضہ چھوڑا وہ ہم پر ہے۔(بخاری۔مسلم۔ابوداؤد)

علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا:میں تمہیں نہیں دے سکتا جبکہ اہل الصفہ کے پیٹ (بھوک سے )دوہرے ہورہے ہیں اور ایک مرتبہ جب فاطمہ رضی اللہ عنہانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے غلام مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ میں اس حال میں تمہیں کیسے دے دوں کہ کہ اہل الصفہ کے پیٹ دوہرے ہورہے ہیں ۔(احمد۔بہیقی۔ابونعیم)

جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس لوگوں کے ساتھ آرہے تھے لوگ آپ کے ساتھ چمٹ گئے یعنی آپ سے مال مانگنے لگے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کیکر کی جھاڑیوں کی طرف دھکیل لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کانٹوں میں الجھ گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میری چادر مجھے دیدو ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر میرے پاس ان کانٹوں کے برابر مال ہوتا تو وہ بھی میں تمہارے درمیان تقسیم کردیتا تم مجھے پھر بھی کنجوس ،جھوٹا اور بزدل نہ پاتے ۔(بخاری۔مسلم۔نسائی۔ابن حبان۔مالک۔ابویعلیٰ۔طبرانی۔بزار)

احمد نے موسیٰ بن طلحہ سے روایت کیا ہے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ منبر پر تھے اور موذن تکبیر کہہ رہا تھا جبکہ آپ رضی اللہ عنہ لوگوں سے ان کی ضروریات پوچھ رہے تھے۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکہتے ہیں :میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے فرمایا:تم میں سے ہرشخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال ہوگا امام ذمہ دار ہے اس سے عوام کے بارے میں پوچھا جائے گا آدمی اپنے گھر میں ذمہ دار ہے اور اس کے لیے جواب دہ ہے عورت اپنے گھر میںذمہ دار ہے اوراس کے لیے جواب دہ ہے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ذمہ داری کے لیے جوابدہ ہے ۔(بخاری۔مسلم۔احمد)

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ بہترین اور بہادر ترین اور سب سے زیادہ سخی تھے ایک مرتبہ مدینہ والے کسی آواز کو سن کر گھبراگئے اور آواز کی سمت چل پڑے تو آگے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لارہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے جاکر معلوم کرچکے تھے او رگھوڑے کی ننگی پیٹھ پر تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں تلوار لٹک رہی تھی۔(بخاری۔ترمذی۔احمد۔بہیقی۔ابویعلیٰ)

آسیہ ملعونہ سے ممتاز قادری تک

14 جون 2009ء کو ضلع ننکانہ کے ایک نواحی گاؤں اِٹانوالی میں عیسائی مذہب کی مبلغہ آسیہ مسیح نے قرآنِ مجید اور حضور نبی کریمﷺ کی شان اقدس میں نہایت نازیبا، دل آزار اور گستاخانہ کلمات کہے جن کو دہرانے کی میرا قلم اجازت نہیں دیتا۔ آسیہ مسیح کے شوہر عاشق مسیح نے فوری طور پر وفاقی وزیر اقلیتی اُمور شہباز بھٹی سے رابطہ کیا جن کی مداخلت پر کئی دن تک ملزمہ کے خلاف پرچہ درج نہ ہوسکا۔ وفاقی وزیر کی اس حرکت سے علاقہ بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔بالآخر 19جون 2009ء کو آسیہ مسیح کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295سی کے تحت ایف آئی آر نمبر 326 درج کرلی گئی اورملزمہ کو گرفتار کرکے حفاظتی اقدام کے طور پر ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ بھیج دیا گیا ۔
اہم بات یہ ہے کہ اس کیس کی تفتیش پنجاب پولیس میں نیک نامی اور دیانت داری کی مثالی شہرت رکھنے والے جناب سید محمد امین بخاری ایس پی شیخوپورہ نے کی، جنہوں نے 26 جون 2009ء کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت آسیہ مسیح کا بیان ریکارڈ کیا اور نہایت جانفشانی ، غیر جانبداری اور شفاف طریقے سے اس کیس کے تمام پہلوؤں کی مکمل تفتیش کرتے ہوئے آسیہ مسیح کو واقعی ملزمہ قرار دیا او راپنی رپورٹ میں لکھا کہ
''ملزمہ آسیہ مسیح کا حضور نبی کریمﷺکی شان میں اور قرآنِ مجید کے متعلق گستاخانہ باتیں کرنا قانونی طور پر ثابت ہوچکا ہے۔ ملزمہ نے یہ تمام باتیں نہ صرف تسلیم کیں ہیں بلکہ اپنی غلطی کی معافی بھی مانگی ہے۔''
اس مقدمہ کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب، جناب محمد نوید اقبال کی عدالت میں ہوئی۔ملزمہ کی طرف سے اکبر منور درّانی ایڈووکیٹ، طاہر گل صادق ایڈووکیٹ، چوہدری ناصر انجم ایڈووکیٹ،جسٹن گل ایڈووکیٹ، طاہربشیر ایڈووکیٹ، ایرک جون ایڈووکیٹ اورمنظور قادر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، جبکہ استغاثہ کی طرف سے میاں ذوالفقار علی ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ تقریباً ڈیڑھ سال تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ 8 نومبر 2010ء کو اس مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج نے جرم ثابت ہونے پر ملزمہ آسیہ مسیح کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295سی کے تحت سزائے موت کامستحق قرار دیتے ہوئے اپنے فیصلہ میں لکھا :
''یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس گاؤں میں عیسائی حضرات کی ایک کثیر تعداد مسلمانوں کے ساتھ کئی نسلوں سے آباد ہے۔ لیکن ماضی میں اس قسم کا کبھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ مسلمان اور عیسائی دونوں ایک دوسرے کے مذہبی جذبات اور اعتقادات کے سلسلے میں برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کرتے آ رہے ہیں۔ اگر توہین رسالت کا اس قسم کا کوئی واقعہ پہلے کبھی اس گاؤں میں پیش آیا ہوتا، تو یقیناً فوجداری مقدمات اور مذہبی جھگڑے اس گاؤں میں پہلے سے موجود ہوتے۔لہٰذا اس دفعہ یقیناً توہین رسالت کا ارتکاب ہوا ہے۔ جس کے باعث مقدمہ درج ہوا اور عوامی اجتماع منعقد ہوا اور یہ معاملہ اس قصبے اور اِرد گرد میں موضوعِ بحث بن گیا۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی مناسب ہوگا کہ نہ تو ملزمہ خاتون نے اپنی صفائی میں کوئی شہادت پیش کی، اور نہ ہی دفعہ (2)340، ضابطہ فوجداری کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات غلط ثابت کئے۔مندرجہ بالا بحث کانتیجہ یہ نکلتا ہے کہ استغاثہ نے اس مقدمہ کو کسی شک و شبہ سے بالاتر ثابت کردیا ہے۔تمام استغاثہ گواہان نے استغاثہ کے موقف کی متفقہ اور مدلل اندازمیں تائید و تصدیق کی ہے۔استغاثہ گواہان او رملزمہ، اُن کے بزرگوں، یا ان کے خاندانوں میں کسی دشمنی کا وجود نہیں پایا جاسکا۔ لہٰذا ملزمہ خاتون کوناجائز طور پر اس مقدمہ میں ملوث کیے جانے کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔ملزمہ کو اس مقدمہ میں کوئی رعایت دیئے جانے کا بھی کوئی جواز موجود نہیں۔لہٰذا میں ملزمہ آسیہ بی بی زوجہ عاشق کو زیر دفعہ 295سی تعزیراتِ پاکستان، موت کی سزا کا مجرم ٹھہراتا ہوں۔''
اس فیصلہ کے خلاف دنیابھر کی سیکولر لابیاں، نام نہاد 'انسانی حقوق' کی تنظیمیں اور عیسائی نمائندے میدان میں آگئے۔ عیسائی پوپ بینڈکٹ نے آسیہ ملعونہ کے دفاع میں احتجاج کرتے ہوئے اس فیصلہ کی مذمت کی او رکہا کہ وہ ایسے کسی فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہونے دیں گے۔پوپ نے ویٹی کن میں منعقدہ خصوصی دعائیہ تقریب میں آسیہ مسیح کی رہائی کے لیے نہ صرف اس کا نام لے کر دعا کرائی بلکہ صدرِ پاکستان سے بھی اپیل کی کہ اس کی سزا معاف کی جائے۔ اُنہوں نے حکومت ِپاکستان سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ قانون توہین رسالت کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
پوپ کے بیان کے بعد 20 نومبر 2010ء کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر عدالت سےمجرمہ قرار دی جانے والی خاتون سے ملنے کے لیے فوراً ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ پہنچے۔ جہاں اُنہوں نے سپرنٹنڈنٹ جیل شیخوپورہ کے وی آئی پی کمرہ میں آسیہ مسیح سے خصوصی ملاقات کی اور اُسے حکومتی سطح پر ہرممکن امداد کا یقین دلایا۔ وہ گورنر ہاؤس سے اپنے ساتھ آسیہ مسیح کو ملنے والی سزا کی معافی کی ٹائپ شدہ درخواست بھی ہمراہ لائے تھے۔ گورنر سلمان تاثیرنے میڈیا کی موجودگی میں آسیہ مسیح سے کہا کہ یہ آپ کی طرف سے تحریر کردہ درخو است ہے، آپ اس پر دستخط کردیں تاکہ میں بطورِ گورنر اس درخواست کوصدر آصف علی زرداری تک پہنچا کر سزا کی معافی ممکن بنوا سکوں۔ سزا کی معافی کے بعد آپ کو یورپ کے کسی ملک میں بھجوا دیا جائے گا۔ اس موقع پر گورنر پنجاب نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملعونہ آسیہ مسیح کو معصوم قرار دیا او رکہا کہ دنیا کی کوئی طاقت آسیہ مسیح کوسزا نہیں دے سکتی۔ اُنہوں نے کہا کہ قانونِ توہین رسالت ایک 'امتیازی، غیر انسانی او رکالا قانون ' ہے جس کو ہر حالت میں ختم ہونا چاہئے۔
اس پریس کانفرنس کے ذریعے یورپی ممالک کو یہ پیغام بھی دیا گیا کہ حکومت آسیہ مسیح کو سزا دینے کے حق میں نہیں ہے اور حکومت ایسے تمام قوانین کو بھی ختم کردے گی جواقلیتوں کی 'آزادئ اظہار' کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے ایڈیشنل سیشن جج جناب محمد نوید اقبال ، جنہوں نے شانِ رسالت میں گستاخی کا جرم ثابت ہونے پر آسیہ مسیح کو سزائے موت سنائی تھی، کو ٹیلی فون کیا او رنہایت غلیظ زبان استعمال کی۔ اس کے بعد وہ آئے روز مختلف ٹی وی چینلز پر برملا کہتے رہے کہ قانون توہین رسالت ضیاء الحق کے دور میں انسانوں کا بنایا ہوا 'کالا قانون' ہے، اس کے رد عمل میں دی یونیورسٹی آف فیصل آباد سے ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے ، نیک بخت طالب علم صاحبزادہ عطاء الرسول مہاروی نے 16 نومبر 2009ء کو یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن میں مہمانِ خصوصی گورنر پنجاب سلمان تاثیر سے احتجاجاً براؤنز میڈل وصول کرنے سے انکار کیا او رحقارت سے کہا کہ آپ نہ صرف گستاخانِ رسول کی سرپرستی کرتے ہیں، بلکہ توہین رسالت ایکٹ 295سی کو ظالمانہ اور ختم کرنے کے بیانات بھی جاری کرتے ہیں۔ اس طرح آپ بذاتِ خود توہین رسالت کےمرتکب ہوئے ہیں، لہٰذا آپ سے میڈل وصول کرنا میں گناہ سمجھتا ہوں۔
30 نومبر 2010ء کو ملک کے جید علماے کرام نے قانون توہین رسالت کو 'کالا قانون' کہنے اور ملعونہ آسیہ مسیح کی بے جا حمایت و سرپرستی کرنے پرسلمان تاثیر کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا۔ اسی دن پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی و سابق وفاقی وزیر اطلاعت و نشریات شیری رحمٰن نے قانون توہین رسالت کو ختم کرنے کا بل اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرایا۔اس سے اگلے روز صدر پاکستان آصف علی زرداری نے وفاقی وزیر اقلیتی اُمور شہبازبھٹی مسیح کی سربراہی میں اراکین اسمبلی پر مشتمل 9 رُکنی کمیٹی تشکیل دی جس نے قانونِ توہین رسالت کو ختم کرنے کے حوالے سے ایک ماہ کے اندر حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرنی تھی ۔
4 جنوری 2010ء کو گورنر سلمان تاثیر کو ان کے سرکاری محافظ غازی ملک ممتاز حسین قادری نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ واقعات کے مطابق گورنر پنجاب، اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس ٹو کی کوہسار مارکیٹ میں واقع ایک مہنگے ریسٹورنٹ میں اپنے کاروباری دوست شیخ وقاص کے ساتھ کھانا کھا کر واپس اپنی گاڑی کی طرف آرہے تھے کہ ان کے سرکاری محافظ گن مین غازی ملک ممتاز حسین قادری نے ان پرگولیوں کی بوچھاڑ کردی جس پر وہ شدید زخمی ہوگئے۔ اُنہیں فوری طور پر پولیس کی گاڑی میں ڈال کر پولی کلینک لے جایا گیا، لیکن وہ راستے ہی میں دم توڑ گئے۔ غازی ملک ممتاز حسین قادری نے موقع پر خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔ گرفتاری کے وقت وہ حیران کن حد تک نہایت پرسکون اور مطمئن نظر آرہا تھا۔ اس نے ابتدائی تحقیقات میں اعتراف کیا کہ
''گورنر پنجاب نے قانون توہین رسالت کو ' کالا قانون' قرار دیا تھا، ا س لیے گستاخِ رسول کی سزا موت ہے۔سلمان تاثیر گستاخِ رسول تھا، اس نے چونکہ قانون توہین رسالت کے تحت عدالت سےسزا پانے والی ملعونہ آسیہ مسیح کوبچانے کا عندیہ دے کر خود کو گستاخِ رسول ثابت کردیا تھا، اس پر میں نے اپنا فرض پورا کردیا ۔