Friday, 18 August 2017

یہودی کامیاب قوم کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟

"یہودی، ایک کامیاب قوم ، مگر کیسے"

کچھ عرصہ قبل ایک ناول پڑھا جو یہودیوں کے خلاف لکھا گیا تھا۔ اس میں ہیرو جو اسرائیل کے خلاف مشن پر تھا اسے ایک آڈیو ریکارڈنگ ملی۔ وہ آڈیو ریکارڈنگ  کئی سال پہلے ہونے والے ایک اجلاس کی تھی۔ اس میں دنیا کے چند ٹاپ کے دانشور یہودی اکٹھے تھے اور یہ اجلاس پوری دنیا اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف تھا۔

اجلاس کی صدارت کرنے والا شخص اجلاس کا مقصد بتاتے ہوئے کہتا ہے:
"یہودی اس دنیا کی عظیم قوم ہیں ،یہودیوں کے علاوہ باقی تمام اقوام دراصل دو ٹانگوں پہ چلنے والے جانور ہیں جو صرف اور صرف بنی اسرائیل کی خدمت کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ ہم یہاں اس لئے اکٹھے ہوئے ہیں کہ  اس بات پر غور کرسکیں کہ کس طرح دنیا پر عظیم یہودی حکومت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکتا ہے"۔

اب سب دانشور مل کر اپنی اپنی رائے دیتے ہیں جن میں سے ان آراء پر اتفاق ہوجاتا ہے:
"پوری دنیا کی معیشت اپنے قبضے میں کرلی جائے، دنیا کے ہر ملک میں صرف ہماری مصنوعات کی مانگ ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ایسے پراڈکٹ متعارف کرائے جائیں جن تک ہر شخص کی رسائی ہو، جن کا متبادل کوئی نہ دے سکے اور جن میں ایسے کیمیکل استعمال کیے جائیں جو صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہوں تاکہ دشمنوں کی جسمانی و دماغی صلاحیتیں متاثر ہوں"
"دنیا کو وہی  نظر آنا چاہیے جو ہم دکھانا چاہیں، یعنی میڈیا ہمارے قبضے میں ہو۔ اس مقصد کے لیے میڈیا تک ہر ایک کی رسائی کو ممکن بنایا جائے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سستے داموں ہر ایک تک پہنچایا جائےاور پھر اس پر اپنی مرضی کا مواد ڈالا جائے تاکہ دیکھنے والے ذہنی طور پر اسی سانچے میں ڈھل جائیں جس میں ہم انہیں ڈھالنا چاہیں"

میٹنگ کے آخر میں کسی نے نکتہ اٹھایا کہ یہ منصوبے ٹھیک ہیں اور ان کا نفاذ ہمیں فائدہ بھی پہنچائے گا لیکن اس میں وقت تو بہت لگ جائے گا ہم تو شاید یہ کام کرتےکرتے ہی مر جائیں۔

اس بات کے جواب میں صدر مجلس بتاتا ہے کہ بالکل ایسا ہی ہے ہم ان منصوبوں کے پایہ تکمیل تک پہنچتے پہنچتے بمشکل زندہ رہ پائیں لیکن ہم نے یہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کرنا ہے تاکہ وہ دنیا پر حکومت کریں اور پوری دنیا عظیم یہودی قوم کی غلام ہو۔ اس لیےہم اپنی زندگی میں ان منصوبوں پر عمل کریں گے اور آنے والی نسلوں تک اسی طرح منتقل کرتے جائیں گے تاکہ وہ ہمارے مشن کو جاری رکھ سکیں۔

اب آتے ہیں اپنی یگڑم بشٹا کی طرف، کہنے کو تو یہ ناول میں کہی گئی باتیں ہیں لیکن اگر آپ گوگل پہ  "بےبے دی کھبے پیر دی چپل" سرچ کرنے سے فری ہوجائیں تو پیپسی سے لے کر پیمپر تک ہر پراڈکٹ چیک کرلیں، لے دے کے اس کی بنیاد یہودیوں کے کسی کارخانے میں جانکلتی ہے، البتہ تیکھی بھنگ، کچی شراب، لیمن سوڈا اور اس جیسی دیگر ایجادات کا سہرا بلاشبہ ہمارے ہونہار "انجینیئرز" کے سر ہے۔

اسی طرح میڈیا کی صورتحال ہے، لوگوں کے اذہان کو اپنے مطابق چلانے کے لیے انہوں نے کس طرح میڈیا پہ قبضہ کیا ہوا ہے ہم جانتے ہی ہیں۔ (ہم جانتے ہیں والی بات اپنی تسلی کے لیے کردی ورنہ پتا ہے سب کو کہ ہم کتنا جانتے ہیں،  جانتے ہوتے تو مار نہ کھاتے) ہمارے فیس بک اکاؤنٹ سے لے کر بڑے بڑے چینلز تک ہر چیز کے مالک یہودی ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا کا 96 فیصد میڈیا 6 یہودی کمپنیوں کی ملکیت ہے۔ ان میں سب سے بڑی کمپنی "والٹ ڈزنی" ہے جس کے پاس ایک بڑا کیبل نیٹ ورک، سات اخبار، کچھ میگزینز اور درجنوں پروڈکشن ہاؤسز ہیں، اسی طرح ٹائم وارنر، ویاکوم جیسی کمپنیاں ہیں جن کی ملکیت میں بچوں کے کارٹون چینل سے لے کر بڑے بڑے فلم ، ڈرامہ اور نیوز چینلز ہیں، اسی طرح پرنٹ میڈیا میں نیویارک ٹائمز، نیوز ویک اور دی ٹائم بڑے بڑے اخبارات ہیں، اور یہ سب یہودیوں کی ملکیت ہیں۔

‌ان سب میں ہمارے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ان کامیاب لوگوں کی طرح ہمیں بھی 'لمبی اور پراثر پلاننگ' کے ساتھ ساتھ 'معیشت' اور 'میڈیا' کو اپنے قبضے میں کرنا ہے کہ کسی بھی میدان میں کامیابی کا یہ مؤثر ذریعہ ہے، اور یہ ہمارے لیے اس طرح سے بھی آسان ہے کہ ہمارے پاس جو قدرت کی طرف سے عطا کردہ نعمتیں اور مدد ہے وہ یہودیوں کی نسبت زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ بھی کچھ سمجھنے کی باتیں ہیں وہ آپ خود سمجھیں بلکہ مجھے بھی بتائیں، میں اتنی دی یہودیوں کی بنی چائے سُڑَک لوں، اتنی لمبی تحریر لکھ کے سر درد کرنے لگا ہے
تیرا منتظر مسافر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسرار احمد

میں اللہ کا حساب لوں گا

میں اللّٰہ کا حساب لوں گا____
۔
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ سید الانبیاء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف فرما رہے تھے. ایک اعرابی کو اپنے آگے طواف کرتے ہوئے پایا جس کی زبان پر "یاکریم یاکریم" کی صدا تھی۔ حضور اکرم نے بھی پیچھے سے یاکریم پڑھنا شروع کردیا۔ وہ اعرابی رُکن یمانی کیطرف جاتا تو پڑھتا یاکریم، سرکار دوعالم بھی پیچھے سے پڑھتے یاکریم۔ وہ اعرابی جس سمت بھی رخ کرتا اور پڑھتا یاکریم،، سرکار بھی اس کی آواز سے آواز ملاتےہوئے یاکریم پڑھتے۔
اعرابی نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کیطرف دیکھا اور کہا کہ اے
روشن چہرے والے !اے حسین قد والے ! اللہ کی قسم اگر آپ کا چہرہ اتنا روشن اور عمدہ قد نہ ہوتا تو آپ کی شکایت اپنے محبوب نبی کریم کی بارگاہ میں ضرور کرتا کہ آپ میرا مذاق اڑاتے ہیں.
سید دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم مسکرائے اور فرمایا کہ کیا تو اپنے نبی کو پہچانتا ہے ؟
عرض کیا: نہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ایمان کیسے لائے؟
عرض کیا: بِن دیکھے ان کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا، مانا اور بغیر ملاقات کے میں نے انکی رسالت کی تصدیق کی۔ آپ نے فرمایا: مبارک ہو، میں دنیا میں تیرا نبی ہوں اور آخرت میں تیری شفاعت کرونگا۔
وہ حضور علیہ السلام کے قدموں میں گرا اور بوسے دینے لگا۔ آپ نے فرمایا: میرے ساتھ وہ معاملہ نہ کر جو عجمی لوگ اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اللہ نے مجھے متکبر وجابر بناکر نہیں بھیجا بلکہ اللہ نے مجھے بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے۔
راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں جبریل علیہ السلام آئےاور عرض کیا کہ اللہ جل جلالہ نے آپ کو سلام فرمایا ہے اور فرماتا ہے کہ اس اعرابی کو بتادیں کہ ہم اسکا حساب لیں گے۔ اعرابی نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اللہ میرا حساب لے گا؟ فرمایا: ہاں، اگر وہ چاہے تو حساب لے گا۔
عرض کیا کہ اگر وہ میرا حساب لے گا تو میں اسکا حساب لونگا۔
آپ نے فرمایا کہ تو کس بات پر اللہ سے حساب لیگا؟
اس نے کہا کہ اگر وہ میرے گناہوں کا حساب لیگا تو میں اسکی بخشش کا حساب لونگا۔ میرے گناہ زیادہ ہیں کہ اسکی بخشش؟
اگر اس نےمیری نافرنیوں کا حساب لیا تو میں اسکی معافی کا حساب لونگا۔
اگر اس نے میرے بخل کا امتحان لیا تو میں اس کے فضل و کرم کا حساب لونگا۔
حضور اکرم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب سماعت کرنے کے بعد اتنا روئے کہ ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ پھر جبریل علیہ السلام آئے۔عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ رونا کم کریں۔ آپ کے رونے نے فرشتوں کو تسبیح و تحلیل بھلا دی ہے۔ اپنے امتی کو کہیں نہ وہ ہمارا حساب لے نہ ہم اسکا حساب لیں گے اور اس کو خوشخبری سنادیں یہ جنت میں آپ کا ساتھی ہوگا۔
کیا عقل نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
ان خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے
۔
کتاب: مسند احمد بن حنبل

کیا جماعت اسلامی بدل گئی ہے

کیا جماعت اسلامی بدل گئی ہے؟ 🛂
کچھ لوگ شکوہ کناں ہیں کہ جماعت سید مودودی کی جماعت اسلامی نہیں رہی اور اپنی اصل سے دور جا چکی ہے۔ وہ سیاسی حکمت عملی کی تبدیلی کو جماعت کے بدلنے سے تعبیر کرتے ہیں ۔ حالانکہ جماعت اپنے لکھے ہوئے دستور کے مطابق ہی اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اور اب بھی اسکا منہج اسکے دستور کے مطابق ہی ہے۔

باقی سیاست میں ملکی حالات و موقع محل کے مطابق انتخابی حکمت عملی ہمیشہ بدلتی رہی ہے۔محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت میں مولانا نے متحدہ اپوزیشن کے ساتھ جدوجہد کی، اکہتر میں اکیلے الیکشن لڑا، ستتر میں بھٹو کے خلاف جماعت pna کے اتحاد میں سرخوں اور لبرل جماعتوں کے ساتھ شریک رہی، پھر IJI میں رائٹ ونگ کے اتحاد کا حصہ بنی، ترانوے میں سیاسی میدان کو جماعت سے الگ کرکے اسلامی فرنٹ بنا کر تجربہ کیا گیا، پھر دینی جماعتوں کے اتحاد کا حصہ بنی پچھلے الیکشن میں pti اور مسلم لیگ ن دونوں سے ایڈجسٹمنٹ کیلیے مذاکرات ناکام ہوئے اور ہم نے ایم ایم اے کی بحالی کی دیگر جماعتوں کے مطالبے پر کان نہ دھرے لہذا چاروناچار اکیلے میدان میں اترے۔ درمیان میں ستانوے اور 2008 میں مختلف امور پر الیکشن بائیکاٹ بھی کیا۔ اس بار جماعت شائد انتخابی کامیابی کے حوالے سے اب تک کے اپنے کامیاب ترین تجربے mma کو دھرانا چاہتی ہے جسمیں غالباً نوخیز جماعۃ الدعوہ بھی حصہ ہوگی۔

مختصراً سیاست ممکنات کا کھیل ہے اور اسمیں حریف و حلیف بدلتے رہتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے پروگرام کی ترویج کیلیے اپنی پارلیمانی طاقت بڑھانا چاہتی ہیں اور اسی لیے الیکشن میں حصہ لیا جاتا ہے۔ سیاست میں ہر چیز سیاہ یا سفید نہیں ہوتی بلکہ کافی کچھ گرے ہوتا ہے۔

جماعت کو سیاہ حصے سے بچتے ہوئے زیادہ سفید حصے اور مجبوراً گرے حصے میں ہی رہنا ہوگا۔ اپنی دعوت کا فوکس خراب نہیں کرنا اور اپنے حامیان کی مکمل تربیت ضروری ہے، لیکن عامۃ الناس سے ووٹ محض دعوت سے نہیں بلکہ انکے مسائل کو ڈسکس کرنے اور انکا حل پیش کرنے سے ہی ملیں گے۔

جماعت کو اب ایک کرپشن سے پاک عام فرد کی نمائندہ سیاسی جماعت کے طور اپنے آپ کو ڈھالنا اور منوانا ہوگا کیونکہ دیگر مشہور جماعتیں محض کرپٹ اشرافیہ کی آماجگاہ بن چکی ہیں اور انکی لیڈر شپ اخلاق وکردار سے عاری ہیں۔ اگر جماعت اس سیاسی خلا کو پر کرنے کیلیے یکسوئی سے جدوجہد کرتی رہی اور جمہوری تسلسل میں بھی کوئی روکاوٹ نہ آئی تو اسکے متحرک اور عام آدمی کے مسائل کا بخوبی ادراک رکھنے والے امیر سراج الحق اسے نمایاں انتخابی جماعت بنانے کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں۔ جماعت کی پارلیمانی کامیابی ملک کے بہتر مستقبل کیلیے انتہائی خوش آئند ہوگی۔

بہرحال موجودہ انتخابی نظام میں اصلاحات اور متناسب نمائندگی کا طریقہ انتخاب لانے کےلیے جماعت کو ایک بھرپور تحریک چلانی چاہیے، کیونکہ موجودہ انتخابی نظام کرپٹ الیکٹیبلز کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے۔

پاکستان کا مطلب کیا

پاکستان کا مطلب کیا؟
آپ شائد یقین نہ کریں نظریہ پاکستان کا انکار کرنے والے بہت سے کلمے کا انکار کر بیٹھے اور اسی نظریے ( مسلم قومیت ) کے انکار نے علماء کی ایک بڑی تعداد کو منکروں اور مشرکین کے ساتھ لے جا کر کھڑا کر دیا۔اپنے اخری ایام میں شدید علالت کے دوران علامہ اقبال نے ایک عجبب و غریب پیشن گوئی کی تھی جو اسی حوالے سے ہے۔ اس پیشن گوئی کے سیاق و سباق میں ہی آپ کو اوپر بیان کیے گیے دعوے کے حق میں بھی کچھ دلائل مل جائینگے۔
جب قائداعظم نے سیکولر سٹیٹ کے مقابلے میں اسلامی مملکت کا نظریہ پیش کیا تو اسکی سب سے زیادہ مخالفت اس وقت کے نیسنلسٹ علماء نے کی۔ علماء اس معاملے میں اتنا آگے چلے گئے کہ مولانا حسین احمد مدنی نے 1938ء کے جلسہ عام میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ” قومیتیں اوطان سے بنتی ہیں مذہب سے نہیں ” ۔۔۔
برصغیر کے سب سے بڑے دارالعلوم کے شیخ الحدیث کی طرف سے اس قسم کا بیان کسی زلزلے سے کم نہیں تھا۔علامہ اقبال ان دنوں شدید علیل تھے۔ لیکن وہ بھی اس بیان پر تڑپ اٹھے اور انہوں نے نہایت دکھ کے عالم میں مولانا کے اس نعرے کے جواب میں فارسی کے چند اشعار پڑھے۔ یہ اشعار ہی وہ پیشن گوئی ہے جسکا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ ان اشعار مفہوم یہ ہے ۔۔۔
” اسلام کے پیرو امت محمدیہ کہلاتے ہیں۔ اگر قومیت کی اساس وطن یا نسل قرار پائے تو رسولﷺ سے نسبت ختم ہو جاتی ہے اور رسول ﷺ سے نسبت ختم ہوجائے تو اسلام باقی نہیں رہتا ”
علامہ اقبال کی اس تنبیہ کے بعد نیشنلسٹ علماء اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے بجائے اس پر ڈٹ گئے۔ مولانا حسین احمد مدنی نے اپنے بیان کے دفاع میں ایک لمبا چوڑا بیان داغ دیا۔ جس کے جواب میں علامہ اقبال نے اپنا مشہور زمانہ مضمون ” معرکہ دین و وطن ” شائع کیا۔ جو اسلامی قومیت پر تمام اشکالات کا جواب ہے۔
مولانا مرحوم کے کچھ پیروکاروں نے کہا تھا کہ ” مولانا نے اقبال کے اس جواب کے بعد اپنے بیان سے رجوع کر لیا تھا ” لیکن وہ پیروکار یہ نہیں بتاتے کہ علامہ اقبال کی وفات کے 6 ماہ بعد مولانا حسین احمد مدنی نے ایک کتابچہ شائع کیا جس میں ایک بار پھر کہا کہ ” علامہ اقبال غلطی پر تھے ”
نظریہ پاکستان کے خلاف ہندو لیڈر ( مشرکین ) اور ہمارے وہ علماء ایک ہی بولی بول رہے تھے۔ قائداعظم نے فرمایا ” جس دن برصغیر میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا اسی دن یہاں دو قوموں کا وجود عمل میں آگیا تھا ” ۔۔۔۔ تو جواباً جواہر لال نہرو نے کہا ” ایسے لوگ ابھی زندہ ہیں جو ہندو اور مسلمان کا ذکر اس طور کرتے ہیں گویا دو قوموں کا ذکر کر رہے ہوں۔ جدید دنیا میں اس دقیانوی خیال کی کوئی گنجائش نہیں ”یعنی ایک طرف حسین احمد مدنی سرے سے مسلم قومیت کا ہی انکار کر چکے تو تھے جبکہ دوسری طرف جواہر لال نہرو مسلم قومیت کو دقیانوسی قرار دے رہے تھے۔
” نظریہ پاکستان کی مخالفت نے علماء کو مشرکین کے ساتھ لے جاکر کھڑا کر دیا”
لیکن یہ تو علماء تھے۔ عام لوگ تو حد ہی عبور کر گئے تھے اور سرے سے اسلام کا ہی انکار کر بیٹھے۔ مثلاً
خان عبدالغفار خان عرف باچا خان نے ٹائمز آف انڈیا کے نمائندے مسٹر دلیپ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ” چند سال پہلے کا پاکستان اب مر چکا ہے۔ مغربی پاکستان میں چار قومیتوں کے درمیان رشتے کے لیے محض اسلام کافی نہیں رہے گا۔ اس کےلیے سیکولر بنیادوں پر رشتے کی تعمیر کرنی ہوگی۔ ” ( آج یہ مردود زندہ ہوتا تو دیکھ لیتا کہ 70 سال بعد بھی کلمے نے ان چار قومیتوں کو پوری طاقت سے جوڑ رکھا ہے اور پاکستان قائم و دائم ہے)
1969ء میں جب وہ کابل گئے تو انہوں نے وہاں کہا ” میں نے دو قومی نظریہ کبھی تسلیم نہیں کیا نہ ہی ایسا کبھی کرونگا۔ مذہب معیار کس طرح ہو سکتا ہے ؟ میں افغانستان کے باشندوں کو بھی کہتا رہا ہوں اور دوسروں کو بھی کہ اسلام دنیا میں انسان کے بعد آیا ہے ”سٹیٹمین 16 اکتوبر 1969ء بحوالہ پاکستان ٹائمز 19-3-1973ء
انہی کے صاحبزادے خان عبدلولی خان نے اعلان فرمایا ” دو قومی نظریہ ختم ہو چکا ہے۔ اسلام کی باتیں ڈیڑھ ہزار سال پرانی اور فرسودہ ہیں۔ 25 سال کے تجربے نے ثابت کر دیا کہ نظریہ پاکستان غلط تھا ” ۔۔۔
نوائے وقت 13 اکتوبر 1972ء
بلاشبہ نظریہ پاکستان کو شدید ضرب سقوط ڈھاکہ کی شکل میں لگی۔ جس پر اندرا گاندھی نے خوش ہوکر کہا تھا کہ ” مسلمانوں نے تحریک پاکستان کی بنیاد ایک باطل نظریہ پر رکھی تھی ثابت ہوا کہ ہمارا نظریہ درست تھا ” ۔۔۔
پھر فرمایا کہ ” آج ہم نے نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے ” ۔۔نظریہ پاکستان کے خلاف لوگوں کی جو ذہن سازی کی گئی تھی اس کا اندازہ اس دور کے کچھ طلباء کے افکار سے لگایا جا سکتا ہے۔ مثلاً ڈھاکہ یونیورسٹی کے ایم اے فائنل کے ایک طالب علم عزیز الرحمن کا ایک خط 7 مئی 1969ء کو ڈایانک پاکستان میں شائع ہوا جس میں اس نے نظریہ پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا تھا کہ
” ہم خودی رام، سبھاش بھوس، بیجائے سنگھ جیسے اپنے قومی ہیروز کو فراموش کر بیٹھے اور انکی جگہ خالد، طارق، موسی اور علی جیسوں کو اپنا ہیرو سمجھنے لگے۔ ہم نے اپنے دیس کے بھگوان کو بھلا دیا اور اس کی جگہ ایک غیر ملکی خدا یعنی اللہ کو اپنا معبود تصور کر لیا۔ ہم اپنے بچوں کے نام اپنی زبان کے بجائے ایک اجنبی زبان میں رکھ کر خوشی محسوس کرنے لگے۔ ہم نوراللہ اور خلیل اللہ جیسے ناموں پر ریجھ گئے اور ناگنی کھاگنی جیسے سیدھے سادھے ناموں کو تیاگ دیا ”4 نومبر 1968ء کو روزنامہ حریت میں ایک سندھی طالبہ مس نسیم کا ایک خط چھپا جس میں اس نے کہا تھا کہ ” وہ اسلام اور پاکستان جو ہم سے ہمارا سندھ اور سندھی زبان چھین لے ایسے اسلام اور پاکستان کو ہم اپنا بدترین دشمن سمجھتے ہیں۔ یہ جھوٹ ہے کہ سندھ اسلام اور اسلامی فلسفہ کی وجہ سے عظیم ہے۔ سندھ موہینجو داڑو، کوٹ ڈی جان کے آثار قدیمہ لطیف، سچل، ایاز اور جی ایم سید جیسے داشوروں اور شاعروں کی وجہ سے عظیم ہے ”
ایک اور لڑکی غزالہ بلوچ نے ڈیلی نیوز کراچی میں 19 اگست 1972ء کو لکھا ” اگر بہاری مسلمان ہندوستان کے ہندوؤں کے اندر جذب ہوجاتے تو آج بہار میں آرام اور چین کی زندگی گزار رہے ہوتے۔ ہندوؤں کے اندر جذب ہونے کے لیے انہیں صرف اتنا کرنا پڑتا کہ اسلام چھوڑ کر ہندو دھرم اختیار کر لیتے۔ اگر وہ ایسا کر لیتے تو دو قومی نظریے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا اور ہندوستان میں صرف ایک ہندو قوم ہوتی ”
اسی طرح سقوط ڈھاکہ کے دلخراش سانحے کی خوشی میں شادیانے بجاتے ہوئے بنگلہ دیشں کے پہلے قائم مقام صدر نظراسلام نے اعلان فرمایا کہ ” یہ فتح ہے ایک صحیح نظریے کی ایک غلط نظریے پر۔ تقسیم ہند سے پہلے کچھ سر پھرے مسلمانوں نے دعوی کیا کہ قومیت کا دارومدار مذہب کا اشتراک ہے، وطن کا اشتراک نہیں اور حکومت کی بنیاد مذہب پر ہے۔ آج انکا نظریہ باطل ثابت ہوگیا ”یعنی ” نظریہ پاکستان کا انکار کرنے والے بالاآخر کلمے کا انکار کر بیٹھے”
ان نظریات اور خطرات کو بھانپ کرانکا تدراک کرنے کے بجائے ہمارے وقت کے دانشوروں نے ان کو کس طرح تقویت دی وہ ایک الگ المیہ ہے۔ مثلاً 1968ء میں کراچی کی عوامی انجمن کی طرف سے شائع شدہ ایک پمفلٹ سے ہوسکتا ہے جس پر جوش ملی آبادی اور فیض احمد فیض کے دستخط بھی ثبت تھے۔ ” ہمارے نزدیک جمہوری آزادی میں قوموں کی ترقی کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں جو مختلف قوموں کا وطن ہے وہ حالات پیدا کیے جائیں کہ سب قومیں انکی زبانیں اور تہذبیں کسی ایک قوم کے تسلط سے آزاد ہو کر خودمختارانہ ترقی کر سکیں۔ ہمارے نزدیک پاکستان کی تمام قومیں مساوی حقوق کی مالک ہیں ”
ہمارے یہ دانشمند سیکولرز نسلی اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کے معاملے میں مغرب کے سیکولرز سے بھی چار ہاتھ آگے بڑھ گئے تھے۔ کیونکہ ان سیکولر ممالک میں ایک چاردیوار کے اندر بسنے والے تمام افراد ایک قوم کہلاتے ہین۔ لیکن یہاں ہمارے ان مہان دانشوروں نے یہ تعلیم دینی شروع کی کہ پاکستان کے ہر صوبے میں بسنے والے الگ الگ قوم ہیں۔

یعنی انکا بھی نقطہ نظر یہی تھا کہ کلمے کی بنیاد پر یہ ایک قوم نہیں کہلائے جا سکتے۔ یہ صاحبان یہ تلخ حقیقت بھی بھلا بیٹھے کہ ایک ہی ریاست کو مختلف قومیتوں میں تقسیم کرنے کے بعد ان کو ان کے ” حقوق ” کے حوالے سے مطمئن کرنا محال ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ بلاآخر ریاست کی تقسیم کی شکل میں نکلتا ہے۔
ایسے ہی دانشوری کے نتیجے میں پاکستان میں نسلی اور لسانی بنیادوں پر جداگانہ قومیت کا نظریہ زور پکڑتا گیا۔
یقیناً اوپر بیان کیے گئے کچھ یہ افکار آپ کو کچھ مانوس سے لگ رہے ہونگے کیونکہ آج ایک بار پھر اس قسم کی آوازیں سنائی دینے لگی ہیں۔
ایک بار پھر شدو ومد سے نظریہ پاکستان کا انکار کیا جا رہا ہے۔ اور حیران کن طور پر یہ انکار کرنے والے کے پی کے میں عوامی نیشنل پارٹی کی شکل میں سیکولرازم اور الحاد کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت بن کر سامنے آرہے ہیں۔
سندھ میں نظریہ پاکستان کا انکار کرنے والے ایک بار پھر محمد بن قاسم کو لٹیرا اور راجہ داہر کو ہیرو قرار دینے لگے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار راجہ داہر کی برسی منائی گئی اور اسکی ٹی وی پر تشہیر کی گئی۔ ایک بار پھر کہا جا رہا ہے کہ ” اسلام بعد میں آیا اور سندھ ہمیشہ سے موجود تھا ”
مسلم قوم پرستی چھوڑ کر لسانی اور نسلی بنیادوں پر قوم پرستی ایکبار پھر لوگوں کو لادینی کی طرف لے کر جا رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمن اور اسفند یار ولی مشترکہ اعلامیہ جاری کررہے ہیں کہ وہ ” ایک دوسرے کے قدرتی اتحادی ہیں “۔ مسلم قومیت کے مخالف انڈن علماء کے فتوے آرہے ہیں کہ ” کشمیر میں جہاد حرام ہے” اور ” ہندوستان میں گائے ذبح کرنا درست نہیں ”
نظریہ پاکستان کی مخالفت نے وقت کے علماء کو ایک بار پھر سیکولرز اور مشرکین کے ساتھ لے جاکر کھڑا کر دیا ہے۔
مولانا حسین احمد مدنی کے ساتھ ہونے علامہ اقبال کے جس مباحثے کا اوپر ذکر کیا ہے اس کے آخر میں اقبال نے فرمایا تھا کہ ” میں مسلمانوں کو اتنباہ کرتا ہوں کہ اس راہ کا آخری مرحلہ اول تو لادینی ہوگا اگر لادینی نہیں تو اسلام کو محض ایک اغلافی نظریہ سمجھ کر اس کے اجتماعی نظام سے بے پرواہی”
آہ ہم یہ ہوتے دیکھ چکے اور شائد ایک بار پھر دیکھ رہے ہیں !
حسین احمد مدنی، ابولکلام آزاد، جواہر لال نہرو اور گاندھی مذہب کو چھوڑ کر جس ” وطنیت ” کی بنیاد پر ہندو مسلم ایک قوم ہونے کا اعلان کر رہے تھے اسی وطنیت پر تنقید کرتے ہوئے علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ۔۔۔
ان تازہ خداوؤں میں وطن سب سے بڑا ہے
جو پیرہن اسکا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
وہ وطنیت ( وطن، نسل اور زبان کی بنیاد پر قومیت ) مذہب کو کفن پہنا رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان مخالفت علماء آج بڑی ڈھٹائی اور چالاکی سے علامہ اقبال کے اسی شعر کو پاکستان کے خلاف دلیل کے طور پر استعال کرتے ہیں۔ جبکہ پاکستان وطنیت نہیں بلکہ مسلم قومیت ( کلمے ) کی بنیاد پر بنا ہے!

پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔۔۔ لاالہ الا اللہ۔
اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی کا یوم آزادی پر "پاکستان کا مطلب کیا" کے موضوع پر کتابچے کا متن