Tuesday, 11 December 2018

تحفظ ناموس رسالت ﷺ کیا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟؟

ناک انسانی چہرے پر اونچا اور نمایا مقام رکھتا ہے ، چیرے کو سڈول اور خوبصورت بناتا یے۔ ناک کا اصل کام تو سانس لینا اور سونگهنا ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ ناک اونچی رکهنے یعنی جهوٹی شان و شوکت اور غرور و تکبر جتانے میں استعمال ہوتا ہے۔

اللہ رب العزت تو اپنے ادنٰی ترین بندے کی بھی تحقیر و تذلیل برداشت نہیں کرتے چہ جائکہ کہ کوئی اللہ کے محبوب ترین ہستی کو اہانت کا نشانہ بنائے۔ جب مکہ کے قریش سرداروں نے آنحضرت ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں ہی عبرت کا نمونہ بنا دیا۔ ابوجہل و ابو لہب کے عبرتناک انجام سے کون واقف نہیں ہے۔ اور ولید بن مغیرہ جو کہ بڑا بدذات تھا‘ اس کی بدذاتی یہ تھی کہ جھوٹا‘ بات بات پر قسمیں کھانے والا‘ چغل خور‘ نیک کاموں سے روکنے والا‘ بد مزاج‘ سرکش اور حرامی تھا۔ اسے مال و اولاد کا بڑا گھمنڈ تھا۔ اس بد بخت نے اللہ کے پیارے نبی ﷺ کو دیوانہ کہا تھا جس سے مقصود نبوت کا ابطال تھا۔ اس کے جواب میں اللہ سبحانہ و تعالٰی نے سورہ قلم میں پہلے اپنے حبیب ﷺ کی نبوت ‘ آپ ﷺ کے اخلاق حمیدہ اور اجرِ آخرت بڑی واضح دلائل سے ثابت کرکے جنون کی نفی کی:

ن ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ (١)

ن، قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں

مَا أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ (٢)

(اے حبیبِ مکرّم!) آپ اپنے رب کے فضل سے (ہرگز) دیوانے نہیں ہیں،

وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ (٣)

اور بے شک آپ کے لئے ایسا اَجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا،

وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ (٤)

اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں (یعنی آدابِ قرآنی سے مزّین اور اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متّصف ہیں)،

فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ (٥)

پس عنقریب آپ (بھی) دیکھ لیں گے اور وہ (بھی) دیکھ لیں گے،

بِأَييِّكُمُ الْمَفْتُونُ (٦)

کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے،

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ (٧)

بے شک آپ کا رب اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے، اور وہ ان کو (بھی) خوب جانتا ہے جو ہدایت یافتہ ہیں، (سورة القلم)

پھر آپ ﷺ کے خلق عظیم کے مقابلے میں اس بدبخت کے دس عیوب بیان فرما دیئے:

وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ (١٠)

اور آپ کسی ایسے شخص کی بات نہ مانیں جو بہت قَسمیں کھانے والا اِنتہائی ذلیل ہے،

هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ (١١)

(جو) طعنہ زَن، عیب جُو (ہے اور) لوگوں میں فساد انگیزی کے لئے چغل خوری کرتا پھرتا ہے،

مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ (١٢)

(جو) بھلائی کے کام سے بہت روکنے والا بخیل، حد سے بڑھنے والا سرکش (اور) سخت گنہگار ہے،

عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ (١٣)

(جو) بد مزاج درُشت خو ہے، مزید برآں بد اَصل (بھی) ہے

أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ (١٤)

اِس لئے (اس کی بات کو اہمیت نہ دیں) کہ وہ مال دار اور صاحبِ اَولاد ہے،

إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ (١٥) سورة القلم

جب اس پر ہماری آیتیں تلاوت کی جائیں (تو) کہتا ہے: یہ (تو) پہلے لوگوں کے اَفسانے ہیں، (سورة القلم)

حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ جتنے ذِلت آمیز اَلقاب باری تعالیٰ نے اس بدبخت (ولید بن مغیرہ) کو دئیے کلامِ اِلٰہی میں کسی اور کے لئے استعمال نہیں ہوئے۔ وجہ یہ تھی کہ اُس نے حضور نبی اکرم ﷺ کی شانِ اَقدس میں گستاخی کی، جس پر غضبِ اِلٰہی بھڑک اٹھا۔ ولید نے حضور نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کا ایک کلمہ بولا تھا، جواباً اللہ رب العزت نے اُس کے دس رذائل بیان کیے اور آخر میں نطفۂ حرام ہونا بھی ظاہر کر دیا، اور اس کی ماں نے بعد ازاں اِس اَمر کی بھی تصدیق کر دی۔ (تفسیر قرطبی، رازی، نسفی وغیرھم)

اور آخر میں اللہ اس کی ناک کو خاک ملا کر عبرتناک انجام تک پہنچایا:

سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ (١٦)

’’اب ہم اس کی سونڈ جیسی ( اونچی) ناک پر داغ لگا دیں گے ‘‘ (سورة القلم)

اللہ تعالی اس متکبر کو اور بھی سزا دے سکتے تهے‘ لیکن ناک پر داغ لگانے کی سزا کیوں تجویز کی؟

کیونکہ ناک ہی جھوٹی عزت اور غرور و تکبر کا نشان ہے۔
اس لئے اس کی کفر خبیثانہ کی پاداش میں اس کے چہرے اور ناک کو داغدار کرکے اس کی جھوٹی عزت اور غرور و تکبر کو خاک میں ملا دینا ہی شانِ رسول ﷺ میں گشتاخی اور اللہ کے ساتھ سرتابی و سرکشی کی مناسب سزا تھی ۔

یہ سزا ہر خبیث و کمینہ گستاخِ رسول اللہ ﷺ کے حق میں عام ہے۔

اور اس کے علاوہ دنیا اور آخرت میں لعنت اور ذلیل کرنے والا عذاب بهی ہے:

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّـهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا (٥٧)

’’ بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسولﷺ کو ایذاء دیتے ہیں ، اللہ ان پر دنیا اور اخرت میں لعنت کرتا ہے۔اور انکے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے ‘‘ (سورۃ احزاب)

ہم بھی بے شمار لعنت بھیجتے ہیں ایسے جھوٹے‘ خبیث‘ کمینے‘ بدذات‘ بد کار و بد کردار اور سرکش لوگوں پر جو فریڈم آف اسپیچ  یعنی اظہار رائے کی آذادی کے نام پر شعائرِ اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں، اسلام کی ہتک اور تذلیل کرتے ہیں ، مقدس ہستیوں،  اسلامی ہیروز کو (معاذ اللہ) برا بھلا کہتے ہیں ‘ انہیں ظالم بنا کر پیش کرتے ہیں اور مسلمانوں، حجاب، قرآن، مساجد، اسلامی تعلیمات اور اسلامی شعار کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا کر رہے ہیں ۔ ان کی ناپاک عزائم  اب  یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وہ  اربوں مسلمانوں کی  دلوں کی دھڑکن ‘ اربوں مسلمانوں کے جان سے بھی پیارے رسول اللہ ﷺ کی ہتک آمیز خاکے  بنانے  کے مقابلے بھی کروانے لگے۔

الحمد للہ ! ہم مسلمانوں کے بھر پور احتجاج نے ان کمبختوں کے دلوں میں  رعب پیدا کر دیا اور وہ  اپنے اس ناپاک عزائم سے باز رہے۔ اس پر ہم سب مسلمانوں کو  اللہ کا بیشمار شکر ادا کرنا چاہئے اور شکرانے کی نمازیں ادا کرنی چاہئے ۔ اس کے  ساتھ ہی اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہئے  کیونکہ  اگر ہم ہی  فرقے میں بٹے  ہوں  اور  ایک دوسرے فرقے کے اسلاف پر لعن طعن کر رہے ہوں‘ ان کے  ہتک آمیز  خاکے بنا کر فیس بک  اور سوشل میڈیا پر شائع کر رہے ہوں تو یہود و نصاریٰ اور کفار کو   ہمارے پیارے نبی ﷺ کی(نعوذ باللہ) تضحیک کرنے سے کون روک سکتا ہے؟
ہم ناموس رسالت ﷺ کے محافظ تو  بنتے ہیں لیکن أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ کی ڈگر پر  نہیں چلتے  ‘ قرآن و سنت  پر عمل کرنے سے ہماری جان جاتی ہے۔ اپنے  اخلاق کے بارے میں ہم خود ہی جانتے ہیں جو  نبوی اخلاق سے کسی صورت بھی مطابقت نہیں رکھتا‘ ہمارے معاملات میں نبی ﷺ کی تعلیم کی کوئی جھلک نہیں اور اپنے معاملات میں  ہم نےکجروی اختیار کی ہوئی ہے وغیرہ وغیرہ جس کی وجہ کر کفار کے اذہان میں اسلام اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کی  صحیح تصویر واضح نہیں ہو پاتی اور وہ آپ ﷺ کو بھی ہمارے جیسا ہی تصور کرتے ہیں۔

نبی ﷺ کی محبت ہم سبھوں کے دلوں میں  دنیا کی ہر چیز سے زیادہ ہے ‘ یہاں تک کہ اپنی جان  اور ماں باپ اور بیوی بچوں سے بھی زیادہ۔
ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت میں ہر مسلمان اپنا جان قربان کرتا ہے تو کیا  ہمارے لئے مشکل ہے کہ ہم سنتوں پر عمل نہ کریں؟
آپ ﷺ نے جس مکارم اخلاق کی تکمیل کر گئے ہیں ‘ کیا ہمارے لئے مشکل ہے کہ ہم آپ ﷺ کی محبت میں اپنا اخلاق ویسا نہ بنائیں؟
قرآن و سنت کے مطابق اپنے معاملات کو درست نہ کریں؟
اپنے نبی ﷺ کی نافرمانی کرنا نہ چھوڑ دیں؟
اللہ کی نافرمانی  میں زندگی نہ گزاریں؟
فرقہ پرستی کی بت کو اپنے ہاتھوں سے توڑ نہ دیں ؟
اور ایک متحد امت بن کر ناموس رسالت ﷺ کے محافظ نہ بن جائیں؟

بلا شبہ یہ سب ممکن ہے اور اسی طرح ہم سب ناموس رسالت ﷺ کے سچے محافظ بن سکتے ہیں۔

جس کے بعد کسی کفار کو کبھی بھی یہ جرائت نہ ہوگی کہ وہ ناموس رسالت ﷺ یا دین  اسلام   کی کسی شعائرپر انگلی اٹھائے۔

آج ڈنمارک یا کسی اور کی حکومت کیا شہنشاہ فارس کسریٰ (خسرو پرویز ) کی حکومت سے بڑھ کر ہے؟ ۔ جب خسرو پرویز ملعون نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے آپ ﷺ کا خط پھاڑ دیا تو اللہ رب العزت نے اس کے بیٹے کے ہاتھوں ہی اسے قتل کروا کر عبرت کا نمونہ بنا دیا اور اس کی حکومت کو پارہ پارہ کر دیا۔

اور ناموسِ رسالت کے محافظوں کو اس ملک فارس (ایران) کا وارث بنا دیا۔

آج بھی ہمارے رب کیلئے ایسا کرنا ممکن ہے‘ بس ہم مسلمانوں کو فرقہ پرستی چھوڑ کر قرآن و سنت پر واپس آنا ہوگا اور ناموس رسالت کا سچا محافظ بننا ہوگا۔ ان شاء اللہ پھر جلد ہی اللہ سبحانہ و تعالی ناموس رسالت کی حفاظت کرنے والوں کو ڈنمارک کیا پورے دنیا کا وارث بنا دے گا۔

لیکن اگر ایسا نہیں ہوا‘ اگر ہم ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت کیلئے فرقہ پرستی چھوڑ کر قرآن و سنت والی سچے دین پر آکر متحد نہیں ہو سکے تو اللہ کیلئے یہ بھی ممکن ہے کہ ہمارا نام مٹا دے‘ جس طرح اندلس سے مٹا دیا۔

لہذا فرقہ پرستی کی بت کو آج ہی توڑ دیجئے اور اپنے دلوں سے نکال پھیکئے۔
قرآن و سنت کا علم حاصل کیجئے اور سچے دین کو اپنائیے۔
ناموس رسالت کی حفاظت کیجئے۔
شان ِمحمد مصطفی ﷺ کو سمجھئے۔
عظمتِ رسول اللہ ﷺ کو اپنے دل میں جگہ دیجئے۔
اپنے دل میں ایمان کی دیا جلائیے ‘ حب رسول ﷺ سے اپنے دل کو معمور کیجئے۔

Monday, 10 December 2018

عورت کی زینت پردہ اور مولانا مودودیؒ

پاکستانی معاشرے میں عورت کے خلاف تعصب روایتی طور پر یہاں کے قبائلی اور جاگیردارانہ سماج کے باعث تھا لیکن پڑھے لکھے اور شہری علاقوں میں بھی مردانہ احساسِ برتری اور عورت کی تحقیر جڑ پکڑ گئے ہیں جس کی عکاسی روزانہ اخباری سرخیوں سے ہوتی ہے۔ بنتِ حوا کو پابند کرنے والی اس شہری فکر کا تعلق مذہبی بنیاد پرستی کے ان نظریات سے ہے جنہیں پچھلے تیس پینتیس سالوں میں تدریسی کتب کا حصہ بنا کر ایک انوکھی نسل پروان چڑھائی گئی ہے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جہاں ملک کی کل آبادی کے گنے چنے خوش نصیب ترین طلباء پہنچ پاتے ہیں عورت مخالف خیالات کو تشدد کے زور پر دوسروں پر ٹھونسنے کی راسخ ہوتی ہوئی روایت کی جتنی مذمت اور مزاحمت کی جائے وہ کم ہے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تصنیف ’پردہ‘ اس نکتۂ نظر کی علمبردار ہی نہیں بلکہ قدامت پسند سوچ کی بنیاد کی اینٹ ہے۔ مولانا کی انہی علمی خدمات کے صلہ میں سعودی عرب کی حکومت نے انہیں 1979 میں پہلے شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا۔ یاد رہے کہ خود سعودی فرمانرواؤں شاہ خالد اور شاہ فہد کو بعد میں اس گراں قدر اعزاز کا اہل سمجھا گیا۔

عنوان کے برخلاف اس کتاب کا بمشکل دس فیصد اس بات کا احاطہ کرتا ہے کہ کس کس سے اور کتنا پردہ کرنا چاہئے جب کہ بقیہ نوے فیصد میں عورت کے حوالے سے پہلے ہی قائم کردہ رائے کی تائید میں دلائل کا انبار اکھٹا کیا گیا ہے۔ مثلاً مغربی معاشرے کی اخلاق باختگی، آزادی کے نام پر عورت کا استحصال، بن بیاہی مائیں، ناجائز بچے، نکاح کا ختم ہوتا ادارہ، بکھرتے ہوئے خاندان، طلاق کی خوفناک شرح وغیرہ وغیرہ پر روشنی ڈالتے ہوئے بشارت دی گئی ہے کہ اب مغرب کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

قدیم یونان اور سلطنتِ روما میں فواحش کی فراوانی اور عورت کی حرمت و عزت کی ارزانی کا خوب نقشہ کھینچا گیا ہے۔ پڑھتے ہوئے خیال آتا ہے کہ اگر اس وقت تک کی (کتاب 1940ء میں لکھی گئی) عظیم مسلم بادشاہتوں یعنی اموی، عباسی، فاطمی، عثمانی یا مغلیہ ادوار میں عورت کو نصیب ہونے والے کسی قابلِ رشک مقام کی نشاندہی بھی ہوجاتی تو قاری کے لئے موازنہ کرنا کتنا آسان ہوجاتا۔
کتاب میں کئی مقام پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنے قارئین سے مخاطب ہوتے ہوئے صاحبِ کتاب منبر پر نہیں بلکہ آسمان پر براجمان ہیں اور عورت کا جو روپ ان کے ذہن میں ہے اسے ہاتفِ غیبی کی طرح پیش کر رہے ہیں۔

مثلاً ’’اسلامی نظمِ معاشرت میں تو عورت کی آزادی کی آخری حد یہ ہے کہ حسبِ ضرورت ہاتھ منہ کھول سکے اور اپنی حاجات کے لئے گھر سے باہر نکلے‘‘۔

’’عورت کو خانہ داری کے ماسوا دوسرے امور میں حصہ لینے کی مقید اور مشروط آزادی اسلام میں دی گئی ہے‘‘۔

’’صرف یہی نہیں کہ عورت پر بیرون خانہ کی ذمہ داری ڈالنا ظلم ہے بلکہ وہ اس کی اہل بھی نہیں‘‘۔

’’فوج کی مثال کو آپ کہہ دیں گے کہ یہ زیادہ سخت قسم کے فرائض ہیں مگر پولیس، عدالت، انتظامی محکمے، سفارتی خدمات، ریلوے، صنعت و حرفت اور تجارت ان میں سے کس کی ذمہ داریاں ایسی ہیں جو مسلسل قابلِ اعتماد کارکردگی کی اہلیت نہ چاہتی ہوں؟ پس جو لوگ عورتوں سے مردانہ کام لینا چاہتے ہیں وہ عورت کو ناعورت بنا کر نسلِ انسانی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

اپنے موقف کی تائید میں مولانا ’’سائنسی تحقیق‘‘ کے حوالے سے ہمیں بتاتے ہیں کہ:

’’ایامِ ماہواری میں ایک عورت دراصل بیمار ہوتی ہے۔ یہ ایک بیماری ہی ہے جو اسے ہر مہینے لاحق ہوتی ہے۔ اس زمانے میں عورت کا نظامِ عصبی نہایت اشتعال پزیر ہوجاتا ہے۔ ایک عورت جو ٹرام کی کنڈکٹر ہے اس زمانے میں غلط ٹکٹ کاٹ دے گی اور ریزگاری گننے میں الجھے گی۔ایک موٹر ڈرائیور عورت گاڑی آہستہ آہستہ اور ڈرتے ڈرتے چلائے گی اور ہر موڑ پر گھبرا جائے گی۔ ایک لیڈی ٹائپسٹ غلط ٹائپ کرے گی، ایک بیرسٹر عورت کی قوتِ استدلال درست نہ رہے گی، ایک مجسٹریٹ عورت کی قوتِ فہم اور قوتِ فیصلہ دونوں متاثر ہوں گے۔ایک دندان ساز عورت کو اپنے مطلوبہ اوزار نہ ملیں گے۔ ایک گانے والی، اپنے لہجے اور آواز کی خوبی کھو دے گی۔ غرض یہ کہ وہ کوئی ذمہ دارانہ کام کرنے کے قابل نہیں ہوتی‘‘۔

’’ایامِ ماہواری سے بڑھ کر حمل کا زمانہ عورت پر سخت ہوتا ہے۔اس زمانہ میں کئی مہینے اس کا نظامِ عصبی مختل رہتا ہے۔ اس کا دماغی توازن بگڑ جاتا ہے۔ اس میں تلوّن پیدا ہوتا ہے۔ خیالات پریشان رہتے ہیں۔ ذہن پراگندہ ہوتا ہے۔ شعور اور غور وفکر اور سمجھ بوجھ کی صلاحیت بہت کم ہوجاتی ہے‘‘۔

’اصلاحِ باطن‘ نامی باب میں عورت کی حیا پر سیر حاصل گفتگو کرنے کے بعد اس کی ذات سے جڑے دل کے چور، فتنۂ نظر، جذبۂ نمائشی حسن، فتنۂ زبان، فتنۂ آواز، فتنۂ خوشبو، فتنۂ عریانی پر بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے۔

تعلیم کے باب میں دو ٹوک فرماتے ہیں کہ ’’عورت کی صحیح تعلیم و تربیت وہ ہے جو اس کو ایک بہترین بیوی، بہترین ماں اور بہترین گھر والی بنائے۔ اس کا دائرۂ عمل گھر ہے، اس لئے خصوصیت کے ساتھ ان علوم کی تعلیم دی جانی چاہئے جو اس دائرے میں اسے زیادہ مفید بنا سکتے ہیں‘‘۔

مغرب کے شہوانی ماحول کی بڑی تفصیلی، رنگین اور مسالہ دار تصویر کشی کا حاصل ہمیں یوں پیش کرتے ہیں:

’’طلاق اور تفریق کی اس کثرت کا علاج اب یہ نکالا گیا ہے کہ رحمدلانہ شادی (کمپیشنیٹ میرج) یعنی ‘آزمائشی نکاح’ کو رواج دیا جائے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ مرد اور عورت پرانے فیشن کی شادی کیے بغیر کچھ عرصے تک باہم رہیں اور اگر اس یکجائی میں دل سے دل مل جائے تو شادی کرلیں‘‘۔

مولانا مودودیؒ کی پردہ کو یہیں چھوڑ کر ہم ذرا ورلڈ اکنامک فورم کی صنفی فرق کی حالیہ رپورٹ پر ایک نظر ڈالتے ہیں جس میں دنیا کے ایک سو چوالیس ممالک میں عورت کے مقام کا تعین کرنے کے لئے ذیلی چار پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے:

1۔ معاشی عمل میں عورت کی شرکت اور مواقع

2۔ حصولِ علم میں کامیابی

3۔ صحت اور زندہ رہ جانے کے امکانات

4۔ سیاسی اختیارات میں شراکت داری

یہ رپورٹ مولانا مودودی کے تحریر کردہ تمام مفروضات کا پردہ چاک کرتے ہوئے یہ بتاتی ہے کہ جن معاشروں میں عورت کی پسماندگی تحت الثریٰ کو چھو رہی ہے ان میں پاکستان کا مقام صرف جنگ زدہ یمن سے اوپر ہے۔ بقیہ بد ترین ممالک میں شام، سعودیہ، ایران، مراکش، مصر، ترکی، اردن اور امارات شامل ہیں۔

مغرب میں نکاح کے ادارے کی معدومیت اور طلاق کے رحجانات پر بھی مولانا کے خدشات اور تنبیہات کچھ غیر ضروری ثابت ہوئے جب ہم دیکھتے ہیں کہ پردہ کی ہوبہو تشکیل یعنی سعودیہ میں طلاق کی شرح اکثر مغربی ممالک سے اونچی ہے اور ‘نکاح مسیار’ کے نام سے جز وقتی شادی کے ادارے کو کافی فروغ مل رہا ہے۔

عورت پر تشدد بنیاد پرست عناصر کی باقاعدہ ایک حکمتِ عملی ہے جس کا مقصد نصف آبادی کو گھروں میں محبوس رکھ کر مسلم معاشروں کی کمر توڑ دینا ہے۔ جن ان دیکھے ہاتھوں نے جامعات میں معصوم طالبات پر تیزاب پھینکا اور اشتہاری بورڈز پر عورت کی شکل کو مسخ کیا ان کے ذہنوں کی آبیاری پردہ جیسی کتابوں سے ہوئی تھی۔

محض اتفاق نہیں کہ ایامِ طالب علمی میں گلبدین حکمت یار پر بھی کابل یونیورسٹی کی طالبات پر تیزاب پھینکنے کا الزام تھا اور یہ بھی محض حادثہ نہیں کہ عرب بہار کے دوران جب تحریر اسکوائر پر تاریخی اجتماعات میں خواتین نے بھرپور شرکت کی تو ان میں سے کئی سو کو جنسی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

Saturday, 8 December 2018

شہداء کی سرزمین پاکستان کے خلاف عالمی میڈیا وار

دہشتگردی ، شدت پسندی، سیاسی عدم استحکام ، معاشی مسائل، سماجی ناہمواریاں یہ سارے وہ معاملات ہیں جو دنیا میں کسی بھی ملک میں کسی بھی وقت پیش آتے رہتے ہیں یہ جہاں بھی ہوں ہمیشہ ناخوشگوار ہی ہوتے ہیں، ان سے پہنچنے والا نقصان بھی ناقابل برداشت اور ناقابل تلافی ہوتا ہے۔ کوئی ملک، حکومت اور عوام نہیں چاہتے کہ وہ اس صورتحال سے دوچار ہوں اور اکثر اوقات ایسا دشمن ملکوں کی ایماء اور تعاون سے ہی ہوتا ہے۔ ان دنوں پاکستان ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہے، دہشتگردی نے ہماری قومی زندگی کو بُری طرح متاثر کیا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان ان حالات کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے اور انشاء اللہ اِن تمام مسائل کو شکست دیکر سرخرو بھی ہوگا اور مضبوط بھی لیکن اس وقت کئی دشمنوں سے یہ تن تنہا نبرد آزما ہے۔ دہشتگردوں کو کئی اطراف سے مالی اور افرادی مدد مل رہی ہے اور پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں کے ذریعے بد امنی اور عدم استحکام کی صورتحال پیدا کی جارہی ہے۔ اس ساری صورتحال سے سب سے زیادہ فائدہ بھارت اور امریکہ کو پہنچ رہا ہے، بھارت کو یوں کہ پاکستان کمزور ہو اور اسکے سامنے خطے میں موجود واحد رکاوٹ ختم ہو اور اس کا دیرینہ خواب پورا ہو، وہ علاقے کا چوہدری بن سکے اور چھوٹے موٹے ممالک کو اپنا طفیلی بنا سکے، سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت حاصل کر سکے، ایٹمی قوت بڑھاتا رہے اور کوئی اس کا مدمقابل نہ ہو۔ امریکہ اس دہشتگردی کا فائدہ یوں اٹھا رہا ہے کہ اسی بہانے وہ اس خطے میں موجود رہے، چین سے اس کا اصل فاصلہ تو کم نہیں کیا جا سکتا لہٰذا اس طرح وہ اس کے نزدیک رہے اور اس کی ہر قسم کی سرگرمی کو آسانی سے مانیٹر کر سکے اور پوری دنیا پر اکیلے حکومت کرنے کا اُس کا دجالی خواب پورا ہوسکے۔ ہندوستان کی خفیہ ایجنسی’’ را ‘‘اس تحریک میں آگے آگے ہے‘ اسی ایجنسی کے زیر سایہ چھپنے والے ایک جریدے میں پاک فوج کے اوپر کئی اعتراضات کئے گئے اور الزامات لگائے گئے ۔ بیورو آف ریسرچ اینڈ انٹیلی جنس کے اس جریدے میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی حکومتیں بھارت سے اچھے تعلقات کی خواہاں ہیں لیکن فوج انہیں ایسا نہیں کرنے دیتی یعنی اس طریقے سے پاک فوج اور حکومت کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی شعوری کوشش کی جا رہی ہے، یہ الزام بھی لگایا گیا کہ پاکستان میں ایک عدالتی بغاوت کی کوشش کی گئی جس کیلئے فوج عدالتوں کے پس پشت تھی۔ ایک بار پھر یہ تاثر دیا گیا کہ جیسے پاک فوج سوائے اپنے ہر کسی کو ملک دشمن سمجھتی ہے یوں فوج اور حکومت اور فوج اور دیگر اداروں کے درمیان خلیج حائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ساتھ ہی ایک بحث بھی چھیڑ دی گئی اور دوسرے لکھنے والوں کو بھی ایک موضوع فراہم کیا گیا ہے۔ اسی موضوع پر جان ہا پکن یونیورسٹی کے ڈینل ایس مار کی نے بھی پاک فوج اور سیاسی حکومت کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنے کیلئے حکومت کو بھارت کا خیرخواہ اور فوج کو مخالف بتایا ہے ۔ اس قسم کے بیانات کی زبان اور انداز تحریرسے صاف ظاہر ہے کہ ان ماہرین کو بھارت کی مکمل حمایت حاصل ہے کیونکہ پاکستان پر تنقید اگر ایک موضوع ہے تو بھارت کی تعریف ایک اور موضوع لیکن دونوں کو جوڑا جا رہا ہے جو اس بات کی غمازی ہے کہ پر دے کے پیچھے ڈور کسی ایسی قوت کے ہاتھ میں ہے جس کے ہر عمل کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ ہے پاکستان کو نقصان پہنچانا‘ اُس کی دوسرے ممالک سے دوستی یا دشمنی ہو یا اپنے ملک کی پالیسی سازی سب کا مرکزی نکتہ ہوتا ہی پاکستان ہے اور نیت وہی ایک کہ پاکستان کو نیچا دکھا کر اور اُسے نقصان پہنچاکر علاقے پر اپنی گرفت بڑھانا۔ اگر حقائق کو سامنے رکھ کر حالات و واقعات کاجائزہ لیا جائے تو پاکستان سے رقبے اور آبادی میں کئی گنا بڑا بھارت دہشتگردی سے پاکستان کے مقابلے میں کہیں کم متاثر ہے وہاں ہونیوالی دہشتگردی اکثر اوقات اندرونی ہوتی ہے اور اسکی نوعیت بھی مذہبی شدت پسندی ہوتی ہے جس میں ہندو اکثریت ہی اکثر اوقات مسلم اقلیت اور کبھی دوسری اقلیتوں کو نشانہ بناتی ہے اُسکے حاضر سروس کرنل سر کانت اور کمانڈر کلبھوشن یا دیو پاکستان کیخلاف تخریبی کارروائیوں میں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے اور اپنے جرائم کا اعتراف بھی کیا۔ اگر یہ لکھنے والے بھارت کے کردار کو جانچیں اور پر کھیں اور غیر جانبدارانہ تجزیہ کریں تو انہیں معلوم ہوگا کہ دہشتگردوں کا پشت پناہ کون ہے‘ اسے بھارت کا گھنا ونا کردار بلوچستان سے کشمیر تک ہر جگہ نظر آئیگا لہٰذا ان لکھنے والوں کو ایک بار تمام حالات وواقعات کو ضرور دیکھنا چاہئے اور پاکستانی لکھاریوں کو بھی اپنا فرض ادا کرتے ہوئے ان سب کو بھر پور جواب دینا چاہئے۔ دنیا کے سامنے حقیقت کو رکھنا ضروری ہے تاکہ وہ سچ اور جھوٹ اور حق اور باطل میں تفریق کر سکے۔