Friday, 7 December 2018

خاندانی منصوبہ بندی۔۔۔۔۔۔۔! موجودہ سائنس اور قرآن کی روشنی میں۔۔۔۔۔

زیر بحث موضوع کے حوالے سے ایک اہم سوال یہ سامنے آتا ہے کہ کیا کوئی عورت یا کوئی جوڑا بچوں کے پیدائش کے سلسلے میں کوئی ایسی منصوبہ بندی کر سکتا ہے جو ان کی ضروریات، خواہشات، صحت تندرستی اور بچوں کی تعلیم و تربیت سے ہم آہنگ ہو ، اسلام اس پہلو سے کیا رہنمائی مہیا کرتا ہے؟

اگر اس مسئلے کو عالمی تناظر، تاریخی تسلسل اور جغرافیائی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض حالات میں مخصوص پس منظر کی وجہ سے آبادی کی کثرت مطلوب ہوتی ہے اور ایسا ان ممالک یا علاقوں میں ہوتا ہے جہاں آبادی کے تناسب سےوسائل بہت زیادہ ہوتے ہیں اور آ بادی میں اضافہ اس شرح سے نہیں ہوتا کہ ملکی ترقی کی ضروریات پوری کی جا سکیں یا ایسے معاشرے جہاں طاقت کا سرچشمہ افرادی برتری کو سمجھا جاتا ہے اورقبائلی معاشروں میں بالخصوص افرادی کثرت مطلوب ہوتی ہے، جب کہ بعض مختلف حالات میں آبادی کو کنٹرول کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ملکی وسائل آبادی کے بوجھ کو نہیں سہار سکتے، لوگوں کے لئے ضروریات زندگی کی فراہمی، بچوں کی پرورش اور تربیت، تعلیم، علاج معالجہ، روزگار اور مکانات کی فراہمی تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے اور آبادی کا بڑا حصہ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔

انسانی زندگی کی ان دونوں طرح کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام نے آبادی میں اضافے اور بچوں کی پیدائش میں کمی دونوں آپشنز (options) کھلے رکھے ہیں۔ البتہ بچوں کی لگاتار پیدائش خواتین کی صحت کے لئے گوناگوں مسائل پیدا کرنے کا موجب ہو سکتی تھی اس لئے اسے منظم کرنے اور ایک منصوبے کے تحت لانے کے لئے کچھ انتظامات قدرت نے خود کر دئے ہیں اور کچھ دوسرے انسانوں کی  صوابدید پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔

قدرتی منصوبہ بندی:

۱۔ عمر کا تعین:

قدرت نے اس امر کا اہتمام کیا ہے کہ خواتین کی پوری زندگی  بار آوری (productivity)كی صلاحیت کی حامل نہیں ہوتی بلکہ ایک عورت  تقریباً ۱۵ سال سے ۴۵-۵۰ سال کے درمیان یعنی تیس پینتیس سال کا عرصہ اس صلاحیت کی حامل رہتی ہے اور اس میں بھی ابتدائی پندرہ بیس سال کی بار آوری یعنی بچوں کی پیدائش طبی طور پر محفوظ سمجھی جاتی ہے اور جوں جوں خاتون کی عمر میں اضافہ  ہوتا ہے بچے کی پیدائش سے ماں اور بچے کی زندگی کے لئے خطرات میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کے برعکس مرد طویل عرصے تک اولاد پیدا کرنے کے قابل رہتا ہے۔

۲۔ ماہانہ وقفے:

خواتین کو بار آ وری کی مدت میں ہر مہینے آٹھ دس روز ماہانہ وقفے سے گزرنا پڑتا ہے جس کے دوران قرآن حکیم کے واضح حکم کے مطابق میاں بیوی کے اختلاط اور جنسی عمل کی ممانعت ہے:

ویسئلونک عن المحیض، قل ھو اذی، فاعتزلوالنسأ فی المحیض ولا تقربوھن حتی یطھرن۔ البقرہ، ۲۲۲:۲

(لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، انہیں بتا دیں کہ یہ آلودگی ہےل حیض کے دنوں میں بیویوں سے اختلاط سے باز رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان سے صحبت نہ کرو)

۳۔     بچے کی پیدائش کا وقفہ:

جب کسی خاتون کے ہاں بچہ ہوتا ہے تو اس کے بعد وہ نفاس کی حالت میں رہتی ہے جو لگ بھگ چالیس دن کی مدت ہوتی ہے۔ اس عرصے میں میاں بیوی کے لئے ایک دوسرے سے پرہیز ضروری ہے اور یہ پابندی اسلام نے عائد کی ہے۔

۴۔ مخفی قدرتی وقفہ:

قدرت نے حمل قرار پانے کا ایک ایسا انتظام رکھا ہوا ہے کہ ایسا  نہیں ہوتا کہ جب بھی میاں بیوی جنسی عمل سے گزریں تو حمل قرار پا جائے بلکہ جو عورتیں بار آوری کی عمر میں ہوتی ہیں، ان کو ہر مہینے صرف چند گھنٹوں کے لئے ایسا ہوتا ہے کہ ان کے رحم سے بیضہ(Egg) سفر کر کے رحم کے منہ پر آ کر رک جاتا ہے اور اگر ان چند گھنٹوں میں میاں بیوی کا اختلاط ہو تو حمل قرار پا جاتا ہے ورنہ نہیں۔ وہ چند گھنٹے کون سے ہیں ؟ بے شمار عورتوں پر طبی تحقیق کرنے کے بعدماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ گھنٹے مختلف عورتوں میں حیض سے پاک ہونے کے بعد مختلف ایام میں آتے ہیں اس لے ان کے لئے کوئی فارمولا نہیں بنایا جا سکتا کہ فلاں فلاں تاریخوں میں آئیں گے، اور یہ قدرت کی طرف سے ایک مخفی منصوبہ بندی ہے۔

۵۔ دودھ پلانے کے ذریعے وقفہ:

قرآن حکیم نے ماؤں کو یہ کہا ہے کہ وہ دو سال تک اپنے بچوں کو دودھ پلائیں:

والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین لمن اراد ان یتم الرضاعۃ۔ البقرہ، ۲۳۳:۲

(مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، جو یہ چاہتے ہوں کہ رضاعت کی مدت پوری کریں)

اور یہ معلوم ہے کہ جس عرصے میں مائیں بچوں کو دودھ پلاتی ہیں اس میں بالعموم انہیں ماہواری نہیں ہوتی اور جب ماہواری نہ ہو توحمل نہیں ٹھہرتا، اس لئے جو ماں اپنے بچے کو باقاعدگی سے دودھ پلائے گی اس کے بچوں میں قدرتی طور تین تین سال کا وقفہ ہوجائے گا۔

۶۔ نکاح کی عمر:

قدرت کی طرف سے منصوبہ بندی کا ایک مظہر نکاح کے لئے عمر کا تعین بھی ہے۔ اگرچہ کتاب و سنت نے وضاحت کے ساتھ کہیں یہ نہیں بتایا کہ نا بالغی میں نکاح کرنا جائز نہیں لیکن اگر ہم نکاح کے مقاصد پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مر د اور عورت کے درمیان نکاح کا معاہدہ کرانے کا مقصد یہ بتایا ہے کہ:

بث منھما رجالاً  کثیراً و نسأ ۔ النسأ، ۱:۴

(ان دونوں سے آگے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا کیں)

یعنی اللہ کا مقصد یہ ہے کہ نسل انسانی کو بقا اور تسلسل حاصل رہے۔

بندے جو نکاح کرتے ہیں ان کے بالعموم دو مقاصد ہوتے ہیں:

۱۔ اولاد کا حصول

۲۔ جنسی آسودگی کا حصول

ان تینوں مقاصد میں سے  کوئی مقصد بھی نابالغی کی شادی سے متعلق نہیں ہے۔ نابالغی کی شادی سے نہ تو نسل انسانی کو بقا ملتی ہے نہ اولاد حاصل ہو تی ہے  اور نہ جنسی آسودگی۔

اگرچہ اسلام نے نابالغی کی شادی  پر قطعی پابندی عائد نہیں کی کیوں کہ بسا اوقات نا گزیر وجوہ کی بنا پر اس کی ضرورت بھی پیدا ہو جاتی ہے لیکن مقاصد کے حوالے سے دیکھا جائے تو نابالغی کی شادی سے نکاح کے مقاصد حاصل نہیں ہوتے اس لئے قرآن حکیم کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کی کوئی عمر ہوتی ہے اور وہ آیت ہے:

حتی اذا بلغوا لنکاح۔ النسأ، ۴:۴

(تآنکہ  وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں)

اور بلا شبہ نکاح کی عمر بلوغ کی عمر ہے۔

۷۔ عقل کا استعمال:

دنیا بھر میں تقریباً تمام جانداروں میں توالد و تناسل کا سلسلہ نر اور مادہ کے باہمی ملاپ سےچلتا ہے لیکن جانوروں میں ہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ ان کے نر اور مادہ ہر وقت اور ہر موسم میں جنسی ملاپ کے لئےآمادہ نہیں ہوتے بلکہ انہیں اپنے نر یا مادہ ہونے کا احساس بھی نہیں ہوتا بالعموم مادہ پر خاص موسم میں متعین وقفے سےایک کیفیت طاری ہوتی ہے جس میں اسے نر سے ملاپ کی ضرورت ہوتی ہے اور اس وقت اس کی جنس کے نر کوبھی اس کی خبر ہو جاتی ہے اور وہ دونوں ملاپ کی ضرورت پوری کر کےواپس اپنی نارمل زندگی میں لوٹ جاتے ہیں جبکہ انسان کے لئے اس طرح موسموں کی پابندی، وقفوں کا تعین اور کیفیتوں کے نزول کی صورت حال نہیں ہوتی بلکہ وہ جنسی عمل میں اپنی آزادانہ مرضی کے تابع ہوتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان اور دوسرے  جانوروں میں یہ فرق کیوں ہے؟ جب کہ توالدو تناسل کے لئے جنسی ملاپ کا عمل سب کے لئے یکساں ہے۔ تو اس کا واضح جواب یہ ہے کہ اللہ نے جانوروں کو عقل سے نہیں نوازا س لئے انہیں فطرت کی راہنمائی عطا کی اور وہ اس کے مطابق عمل پیرا ہوتے ہیں جب کہ انسان کو عقل و شعور اور آگاہی بخشی گئی جس کی روشنی میں وہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ اسے کب اس عمل سے گزرنا چاہیے اور کب احتیاط کرنی چاہیے، کیا اسے زیادہ بچوں کی ضرورت ہے اور وہ بکثرت جنسی عمل کے ذریعے زیادہ اولاد حاصل کرے یا اسے کم بچوں کی خواہش ہے تا کہ وہ اس کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کرے۔ عقل ایک ایسا نور ہے جس کی روشنی میں انسان اپنے مستقبل کے لئے بآسانی منصوبہ بندی کر سکتا ہے اور یہ نور اللہ نے صرف انسان کو دیا ہے۔

مانع حمل طریقوں کا استعمال:

اسلام خاص حالات میں منصوبہ بندی سے روکتا نہیں ہے، خواہ اس کے لئے مانع حمل ادویہ  استعمال کی جائیں یا حمل روکنے کا کوئی اور مناسب طریقہ اختیار کیا جائے۔

امام غزالی نے اپنی مشہور تالیف ‘‘احیأ علوم الدین’’ (۵۲-۵۱:۱) میں خاندانی منصوبہ بندی اور مانع حمل احتیاطی تدابیر پر سیر حاصل بحث کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:

مندرجہ ذیل صورتوں میں  مانع حمل احتیاطی تدابیر اختیار کرنا جائز ہیں:

۱۔ جب کسی شخص کے بچے بہت ہوں اور وہ صحیح طریقے سے ان کی تربیت کے فرائض انجام نہ دے سکتا ہو ۔

۲۔ جب عورت کمزور ہو ، وہ مزید حمل کی مشقت نہ برداشت کر سکتی ہو۔ جب کہ ہمارے دور میں جن خواتیں کے بچے بڑے آپریشن سے ہوتے ہیں ان کے لئے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ زیادہ بچوں کو جنم دے سکیں اگر وہ مانع حمل تدابیر اختیار نہیں کریں گی اور اس کے نتیجے میں اس امر کا خطرہ ہوتا ہے کہ وہ جان کی بازی ہار جائے اور ان کے بچے ماں کی شفقت اور تربیت سے محروم ہو جائیں۔

۳۔ جب عورت کے مسلسل حمل میں مصروف ہونے کی وجہ سے مرد کے لئے اپنی خواہش پوری کرنے کا راستہ نہ رہتا ہو۔

۴۔ جب خاوند غریب ہو اور بچوں کی کفالت نہ کر سکتا ہو۔

۵۔ جب عورت کو یہ خوف ہو کہ کثرت اولاد کی وجہ سے اس کی خوبصورتی متاثر ہوگی اور خاوند کی توجہ سے محروم ہو جائے گی۔

چونکہ مانع حمل تدابیر اختیار کرنے کے بارے میں کتاب و سنت نے نہ تو حکم دیا ہے اور نہ اس سے روکا ، اس لئے فقہ اسلام اور آئمہ مجتھدین نے اس پر اجتہاد کرتے ہوئے مختلف آرأ اختیار کی ہیں۔ فقہ کی آرأ اور ان کے دلائل حسب ذیل ہیں:

۱۔ کوئی ایسی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا جائز نہیں جو مانع حمل ہو ۔ یہ اہل ظاہر کا نقطہ نظر ہے، البتہ اگر کسی شخص کا اپنی باندی کے ساتھ جنسی تعلق ہو تو اس کے بارے میں احتیاطی تدبیر اختیار کرنا جائز ہے، کیوں کہ باندی working woman ہوتی ہے اور اگر مالک سے اس کی اولاد ہو جائے تو اسے بعض ایسے حقوق حاصل ہوتے ہیں جو مالک کے مفادات سے متصادم ہوتے ہیں ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک شخص نے یہ صورت پیش کی کہ اس کی ایک باندی ہے جو اس کے کام کاج کرتی ہے اور اس کے ساتھ اس کے جنسی تعلقات بھی ہیں لیکن وہ یہ نہیں چاہتا کہ اس سے ان کی اولاد ہو ، اس لئے اس سے عزل کر لیتا ہے یعنی جنسی عمل کے دوران منی خارج ہونے سے پہلے ہی اپنا عضو تناسل باہر نکال لیتا ہے تا کہ حمل نہ ٹھہر جائے۔

رسول اللہﷺ نے اس عمل سے روکا نہیں البتہ آپ نے فرمایا کہ جس جان نے وجود میں آنا ہے اس نے آ کر رہنا ہے۔

اس حدیث کی بنا پر اہل ظاہر کی رائے یہ ہے کہ احتیاطی تدابیر کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، اس لئے یہ جائز نہیں۔

امر واقع یہ ہے کہ اس حدیث کا یہ مفہوم نہیں کہ عزل یا حمل روکنے کی احتیاطی تدابیر کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ فطری اصول اپنی جگہ قائم ہے کہ انسان جو کام جس طرح کا کرتا ہے اس کے نتائج اس کے مطابق ظہور پزیر ہوتے ہیں۔

رسول اللہﷺ کے ارشاد گرامی کا مفہوم یہ ہے کہ عزل کوئی ایسی قطعی اور حتمی تدبیر نہیں ہے جس کے اختیار کرنے سے سو فیصد اطمینان ہو کہ اب حمل  قرار نہیں پائے گا، کیوں کہ اس میں معمولی سی تاخیر، کوتاہی یا بے احتیاطی حمل ٹھہرنے کا سبب بن سکتی ہے اور اگر کبھی ایسا ہو تو یہ ہر گز نہ سمجھنا کہ عورت وہ حمل کہیں باہر سے لائی ہے مبادا اسے بدکار قرار دے دو بلکہ یہ سوچنا کہ ہزار احتیاط کے باوجود بھی تقدیر میں یہی لکھا تھا جو پورا ہو کر رہا۔

احتیاطی تدابیر پر دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ ایک جان کا قتل ہے  اور قرآ ن حکیم میں آتا ہے:

ولا تقتلوا اولادکم خشیۃ املاق۔(الاسرأ، ۳۱:۱۷)

(افلاس کے ڈر سے اپنے اولاد کو قتل نہ کرو)

امام غزالی اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ قتل کا مفہوم متعین ہے کہ کسی زندہ انسان سے اس  کی زندگی چھین لینا۔

احتیاطی تدابیر کے باعث اگر کسی شے کو وجود ہی نہیں ملا تو اس  کو قتل کرنے یا اس سے زندگی چھیننے کی تعبیر سرے سے غلط ہے۔ اگر کوئی شخص ساری زندگی نکاح نہیں کرتا اور اسے احتلام ہوتا رہتا ہے تو کیا وہ زندگی بھر انسانوں کے قتل کا مرتکب ہوتا رہا ہے یا جب کسی عورت کو حیض آنا بند ہو جاتا ہے، اس کے بعد میاں بیوی کاباہمی ملاپ قتل کے مترادف سمجھا جائے گا، کیوں کہ اس ملاپ  کے نتیجے میں اولاد ہونے کا سرے سے کوئی امکان نہیں ہوتا۔ لھٰذا اہل علم و دانش میں سے کسی نے بھی احتیاطی تدابیر کو قتل اولاد قرار نہیں دیا۔

احتیاطی تدابیر پر تیسرا اعتراض یہ ہے کہ قرآن میں ہے :

وما من دآبۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا۔ (ھود، ۶:۱۱ )

(زمین میں کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو)

اس لئے فقر و افلاس کی وجہ سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا درحقیقت اللہ کی رزاقیت کے بارے میں ایمان اور یقین کی کمی ہے۔

لیکن  مذکورہ آیت کی یہ تفسیر درست نہیں اس لئے رزق اللہ کے ذمے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تمام وسائل رزق اللہ نے پیدا کئے ہیں۔ یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کمانا ، غلہ کاشت کرنا اور کھانا تیار کر کے دینا سب اللہ نے اپنے ذمے کر لیا ہے اور انسانوں کا کام صرف کھانا تناول کر لینا ہے۔

الغرض احتیاطی تدابیر کے حرام یا بے فائدہ ہونے کے جتنے دلائل ہیں ان میں کوئی وزن نہیں ہے اور وہ آیات ، احادیث کی غلط تعبیر و توجیہ کا نتیجہ ہیں۔

۲۔ خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے استعمال کرنا مطلقاً جائز ہے۔ اس کے دلیل صحیح بخاری  حدیث نمبر ۵۲۰۸ ہے جس میں ہے:

کنا نعزل والوحی ینزل

صحابہؓ کہتے ہیں کہ ہم عزل کیا کرتے تھے اور اس زمانے میں قرآن کا نزول جاری تھا، یعنی اگر عزل کرنا ممنوع ہوتا تو قرآن کے ذریعے اس کی ممانعت کر دی جاتی نیز رسول اللہﷺ کو بھی اس کا علم تھا، اگر اس میں گناہ ہوتا تو آپﷺ اس سے منع فرما دیتے یہی وجہ ہے کہ امام بہیقی کی تصریح کے مطابق صحابہ کرام میں سے سعد بن ابی وقاص، ابو ایوب انصاری، زید بن ثابت، حضرت عمر اور حضرت علیؓ  اسے جائز قرار دیتے ہیں۔ امام مالک اور امام شافعی کا یہی مذہب ہے۔

۳۔ خاندانی منصوبہ بندی جائز ہے لیکن اس صورت میں جب کہ میاں بیوی دونوں اس کے لئے رضا مند ہوں۔ یہ حنفی علمأ کی رائے ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ چونکہ اولاد کا حصول میاں بیوی دونوں کا برابر حق ہے ، اس لئے کسی ایک فریق کے لئے جائز نہیں کہ وہ دوسرے فریق کی رضا مندی کے بغیر اسے اولاد سے محروم کردے۔

دور حاضر کے مجتہدین نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے۔

اسقاط حمل:

خواتین کی تولیدی صحت کے حوالے سے ایک اہم سوال یہ سامنے آتا ہے کہ کیا اسقاط حمل جائز ہے؟ اگر جائز ہے تو کن صورتوں میں اور کن حالات میں؟

اسقاط حمل کے جواز اور عدم جواز کے بارے میں علمأ کی دو مختلف آرأ ہیں۔ جمہور علمأ اور ائمہ کرام کی رائے یہ ہے کہ بلا ضرورت اسقاط حمل جائز نہیں البتہ اگر کوئی ضرورت درپیش ہو تو حمل کے ابتدائی ایک سو بیس دن کے اندر حمل گرانا جائز ہے، اس کے بعد جائز نہیں ہے۔

امام غزالی اور امام ابن تیمیہ کی رائے یہ ہے کہ جب عورت کے رحم میں حمل قرار پا جاتا ہے اسی وقت سے اس میں زندگی ہوتی ہے، کیوں کہ زندگی صرف زندگی سے وجود میں آتی ہے لہٰذا اسے کسی بھی وقت گرانا درست نہیں ہوتا۔

جمہور علمأ کی دلیل یہ ہے کہ اگر چہ حمل میں زندگی کے آثار ابتدا سے ہی ہوتے ہیں لیکن اس میں روح جسے قرآن نے نفخت فیہ من روحی ( میں اس میں اپنی روح پھونک دی، ص ۷۲:۳۸) کہا ہے ایک سو بیس دن پورے ہونے پر پھونکی جاتی ہے۔

حضرت علیؓ سے جب اس مسئلے کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ قرآن کی رو سے جب حمل ساتویں مرحلے میں داخل ہو جائے تو اسے گرانا جائز نہیں ہے اور وہ سات مرحلے ان آیات میں ہیں:

ولقد خلقنا الانسان من سلالۃ من طین،ثم جعلناہ نطفۃ فی قرارمکین، ثم خلقناالنطفۃعلقۃ فخلقنا العلقۃ مضغۃ فخلقناالمضغۃ عظاماً فکسوناالعظام لحما ثم انشأ ناہ خلقاً اٰخر (المومنون، ۱۴-۱۲:۲۳)

ا۔ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا 

۲۔پھر اسے ایک قطرہ بنا کر مستحکم ٹھکانا دیا

۳۔پھر نطفہ کو جما ہوا خون بنایا

۴۔پھر جمے ہوئے خون کو گوشت کا لوتھڑا بنایا

۵۔پھر گوشت کے لوتھڑے کو ہڈیوں میں ڈھالا

۶۔پھر ہم نے ہڈیوں پر گوشت چڑھایا

۷۔پھر ہم نے اسے ایک اور مخلوق بنا کر پیدا کیا

                         جب اوپر کے چھ مرحلے مکمل ہو جائیں اور پیٹ کا بچہ ساتویں مرحلہ میں داخل ہو جائے تو اس میں روح پھونک دی جاتی ہے اور اس کے بعد اس کا اسقاط جائز نہیں۔ (غزالی، احیأ علوم الدین، ۵۲:۲ )

دور حاضر میں جدید پیش آمدہ مسائل کو حل کرنے کے لئے عالم اسلام میں  کئی مؤثر ادارے قائم کئے گئے ہیں جو دنیا بھر سے اہل علم، سکالرز، اور متعلقہ علوم کے ماہرین کی تحقیقات کی روشنی میں اسلامی آرأ پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ عالم عرب کے ایک اسی قسم کے ادارے ‘‘مجمع الفقہ الاسلامی’’ نے سالہا سال کی تحقیقات کے بعد مندرجہ ذیل قرارداد جاری کی:

مجمع الفقہ الاسلامی کویت نے ۱۵-۱۰ دسمبر ۱۹۸۸ کے اجلاس میں خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں درج ذیل قرارداد منظور کی:

مجمع الفقہ الاسلامی نے اپنے ارکان اور ماہرین کی طرف سے پیش کردہ تحقیقات کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ:

اسلامی شریعت میں نکاح کا مقصد یہ ہے کہ نوع انسانی کو تحفظ حاصل رہے اور انسانی نسل برقرار رہے۔ اس مقصد کو نظر انداز کرنا درست نہیں، اس لئے:

۱۔کوئی ایسی قانون سازی درست نہیں جو میاں بیوی کو پابند کر دے کہ وہ اتنی تعداد سے زیادہ بچے پیدا نہیں کر سکتے۔

۲۔کسی مرد یا عورت کو مکمل طور پر بانجھ کردینا تا کہ ان کی اولاد نہ ہو سکے اس وقت تک درست نہیں جب تک کہ اسلامی شریعت کے مقرر کردہ معیار کے مطابق اس کی ضرورت نہ ہو۔

۳۔ عارضی طور پر بچوں کی پیدائش کو اس طرح روک دینا درست ہے کہ حمل کے وقفے طویل ہو جائیں یا وقتی طور پر بچوں کی پیدائش رک جائے بشرطیکہ اس کی کوئی جائز وجہ ہو اور میاں بیوی دونوں اس پر راضی ہوں اور اس کی وجہ سے کسی فریق کو کوئی نقصان نہ ہو اور اس کے لئے اختیار کردہ ذرائع جائز ہوں اور اس کی وجہ سے ماں کے پیٹ  میں موجود بچے کو کوئی نقصان نہ ہو۔

Tuesday, 4 December 2018

مولانا مودودیؒ اور شیخ حسن البناءؒ(جماععت اسلامی پاکستان اور اخوان المسلمون مصر)

اسلام کی دنیا بھر میں موجودہ پذیرائی سید ابوالاعلی مودودی اور شیخ حسن البناء (اخوان المسلمون کے بانی) کی فکر کا ہی نتیجہ ہے جنہوں نے عثمانی خلافت کے اختتام کے بعد نہ صرف اسے زندہ رکھا بلکہ اسے خانقاہوں سے نکال کر عوامی پذیرائی بخشی۔ سید ابوالاعلی مودودی کا پاکستانی سیاست میں بھی بڑا کردار تھا۔ پاکستانی حکومت نے انہیں قادیانی فرقہ کو غیر مسلم قرار دینے پر پھانسی کی سزا بھی سنائی جس پر عالمی دباؤ کے باعث عملدرآمد نہ ہوسکا۔ سید ابوالاعلی مودودی کو ان کی دینی خدمات کی پیش نظر پہلے شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ آپ کی لکھی ہوئی قرآن مجید کی تفسیر تفہیم القرآن کے نام سے مشہور ہے اور جدید دور کی نمائندگی کرنے والی اس دور کی بہترین تفسیروں میں شمار ہوتی ہے۔

سید ابوالاعلٰی مودودی25 ستمبر 1903ء بمطابق 1321ھ میں اورنگ آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ آپ کے آباؤ اجداد میں ایک مشہور بزرگ خواجہ قطب الدین مودود چشتی گذرے تھے جو خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے شیخ الشیوخ تھے۔ سید مودودی کا خاندان انہی خواجہ مودود چشتی کے نام سے منسوب ہوکر ہی مودودی کہلاتا ہے۔

آپ کا گھرانہ ایک مکمل مذہبی گھرانہ تھا۔ مودودی نے ابتدائیییی دور کے پورے گیارہ برس اپنے والد کی نگرانی میں رہے اور گھر پر تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انہیں مدرسہ فرقانیہ اورنگ آباد کی آٹھویں جماعت میں براہِ راست داخل کیا گیا۔

1914ء میں انہوں نے مولوی کا امتحان دیا اور کامیاب ہوئے۔ اس وقت ان کے والدین اورنگ آباد سے حیدرآباد منتقل ہو گئے جہاں سید مودودی کو مولوی عالم کی جماعت میں داخل کرایا گیا۔

اس زمانے میں دارالعلوم کے صدر مولانا حمید الدین فراہی تھے جو مولانا امین احسن اصلاحی کے بھی استاد تھے۔ تاہم والد کے انتقال کے باعث وہ دارالعلوم میں صرف چھ ماہ ہی تعلیم حاصل کر سکے۔

کیونکہ سید مودودی لکھنے کی خداداد قابلیت کے حامل تھے اس لیے انہوں نے قلم کے ذریعے اپنے خیالات کو لوگوں تک پہنچانے اور اسی کو ذریعہ معاش بنانے کا ارادہ کر لیا۔ چنانچہ ایک صحافی کی حیثیت سے انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور متعدد اخبارات میں مدیر کی حیثیت سے کام کیا جن میں اخبار "مدینہ" بجنور (اتر پردیش)، "تاج" جبل پور اور جمعیت علمائے ہند کا روزنامہ "الجمعیت" دہلی خصوصی طور پر شامل ہیں۔

1925ء میں جب جمعیت علمائے ہند نے کانگریس کے ساتھ اشتراک کا فیصلہ کیا تو سید مودودی نے بطور احتجاج اخبار"الجمعیۃ" کی ادارت چھوڑ دی۔

جس زمانے میں سید مودودی"الجمعیۃ" کے مدیر تھے۔ ایک شخص سوامی شردھانند نے شدھی کی تحریک شروع کی جس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہندو بنالیا جائے۔ چونکہ اس تحریک کی بنیاد نفرت، دشمنی اور تعصب پر تھی اور اس نے اپنی کتاب میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین کی جس پر کسی مسلمان نے غیرت ایمانی میں آکر سوامی شردھانند کو قتل کردیا۔ اس پر پورے ہندوستان میں ایک شور برپا ہوگیا۔ ہندو دینِ اسلام پر حملے کرنے لگے اور علانیہ یہ کہا جانے لگا کہ اسلام تلوار اور تشدد کا مذہب ہے۔

انہی دنوں مولانا محمد علی جوہر نے جامع مسجد دہلی میں تقریر کی جس میں بڑی دردمندی کے ساتھ انہوں نے اس ضرورت کا اظہار کیا کہ کاش کوئی شخص اسلام کے مسئلہ جہاد کی پوری وضاحت کرے تاکہ اسلام کے خلاف جو غلط فہمیاں آج پھیلائی جارہی ہیں وہ ختم ہوجائیں۔ اس پر سید مودودی نے الجہاد فی الاسلام کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اس وقت سید مودودی کی عمر صرف 24 برس تھی۔
اس کتاب کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا:
” اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانونِ صلح و جنگ پر یہ ایک بہترین تصنیف ہے اور میں ہر ذی علم آدمی کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے “

"الجمعیۃ" کی ادارت اور اخبار نویسی چھوڑکر سید مودودی حیدرآباد دکن چلے گئے۔ جہاں اپنے قیام کے زمانے میں انہوں نے مختلف کتابیں لکھیں، اور 1932ء میں حیدرآباد سے رسالہ"ترجمان القرآن" جاری کیا۔

1935ء میں آپ نے "پردہ" کے نام سے اسلامی پردے کی حمایت میں ایک کتاب تحریر کی جس کا مقصد یورپ سے مرعوب ہوکر اسلامی پردے پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دینا تھا۔ اس کے علاوہ "تنقیحات" اور"تفہیمات" کے مضامین لکھے جن کے ذریعے انہوں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں میں سے فرنگی تہذیب کی مرعوبیت ختم کردی۔

سید مودودی نے ترجمان القرآن کے ذریعے ایک پابندِ اسلام جماعت کے قیام کی تجویز پیش کی اور اس سلسلے میں ترجمان القرآن میں مضامین بھی شائع کیے۔ جو لوگ اس تجویز سے اتفاق رکھتے تھے وہ 26 اگست 1941ء کو لاہور میں جمع ہوئے اور "جماعت اسلامی" قائم کی گئی۔ جس وقت جماعت اسلامی قائم ہوئی تو اس میں پورے ہندوستان میں سے صرف 75 آدمی شامل ہوئے تھے۔ اس اجتماع میں سید مودودی کو جماعت کا سربراہ منتخب کیاگیا۔
تقسیم ہند کے بعد سید مودودی پاکستان آگئے۔ پاکستان میں قائد اعظم کے انتقال کے اگلے ہی ماہ یعنی اکتوبر 1948ء میں اسلامی نظام کے نفاذ کے مطالبے پر آپ گرفتار ہو گئے۔ گرفتاری سے قبل جماعت کے اخبارات "کوثر"، جہان نو اور روزنامہ "تسنیم" بھی بند کردیے گئے۔

سید مودودی کو اسلامی نظام کا مطالبہ اٹھانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ قرارداد مقاصد کی منظوری سے قبل اس کا متن بھی مودودی کو ملتان جیل میں دکھایا گیا تھا۔ انہیں 20 ماہ بعد 1950ء میں رہائی ملی۔

اپنی پہلی قید و بند کے دوران انہوں نے "مسئلہ ملکیت زمین" مرتب کی، "تفہیم القرآن" کامقدمہ لکھا، حدیث کی کتاب "ابو داؤد" کا انڈکس تیارکیا، کتاب "سود" اور "اسلام اور جدید معاشی نظریات" مکمل کیں۔

1953ء میں سید مودودی نے "قادیانی مسئلہ" کے نام سے ایک چھوٹی سی کتاب تحریر کی جس پر انہیں گرفتار کرلیا گیا اور پھرفوجی عدالت کے ذریعے انہیں یہ کتابچہ لکھنے کے جرم میں سزائے موت کا حکم سنادیا۔ سزائے موت سنانے کے خلاف ملک کے علاوہ عالم اسلام میں بھی شدید ردعمل ہوا۔ جن میں مصر کی اسلامی جماعت اخوان المسلمون کے رہنما علامہ حسن الہضیبی، کابل سے علامہ نور المشائخ المجددی، فلسطین کے مفتی اعظم الحاج محمد الحسینی کے علاوہ الجزائر اور انڈونیشیا کے علماء نے حکومت پاکستان سے رابطہ کرکے سید مودودی کی سزائے موت کے خاتمے کا مطالبہ کیا جبکہ شام کے دار الحکومت دمشق میں ان کی سزائے موت کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔

بالآخر حکومت نے سزائے موت کو 14 سال سزائے قید میں تبدیل کردیا۔ تاہم وہ مزید دوسال اور گیارہ ماہ تک زندان میں رہے اور بالآخر عدالتِ عالیہ کے ایک حکم کے تحت رہا ہوئے۔

سید مودودی مسلسل خرابی صحت کی بنا پر 4 نومبر 1972ء کو جماعت اسلامی کی امارت سے علاحدہ ہوگئے۔ وہ 26 اگست 1941ء کو امیر جماعت مقرر ہوئے تھے اور قیدو بند کے وقفہ کے علاوہ 31 سال 2 ماہ اور8 دن تک جماعت کی امارت پر فائز رہے۔

امارت سے علیحدگی کے بعد انہوں نے تمام تر توجہ تصنیف و تالیف کے کام خصوصاً تفہیم القرآن کی طباعت اور توسیع اشاعت پر مرکوز کردی۔ چودہویں صدی ہجری میں اس عظیم کتاب کی تالیف نے اس صدی کو یادگار بنا دیا، اس عظیم علمی خدمت کو مسلمانوں کی تاریخِ علم و ادب کبھی فراموش نہ کرسکے گی۔ اس کتاب نے لوگوں کی زندگیوں کےرخ بدل دیے، یہ وہاں تک پہنچی جہاں تک سید مودودی کی دیگر تصانیف نہ پہنچ سکتی تھیں۔اس نے جدید طبقے کو بھی مسخر کیا اور قدیم طبقے نے بھی اقامت دین کا سبق اس کتاب سے سیکھا ہے۔

1956ء سے 1974ء تک کے عرصے میں آپ نے دنیا کے مختلف حصوں کا سفر کیا۔ اپنے متعدد دوروں کے دوران انہوں نے قاہرہ، دمشق، عمان، مکہ، مدینہ، جدہ، کویت، رباط، استنبول، لندن، نیویارک، ٹورنٹو کے علاوہ کئی بین الاقوامی مراکز میں لیکچر دیے۔ انہی سالوں میں آپ نے 10عالمی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ 1959ء اور 1960ء میں قرآن پاک میں مذکور مقامات کی جغرافیائی کیفیت کا مشاہدہ کرنے کےلیے سعودی عرب، اردن، (بشمول یروشلم) شام اور مصر کا تفصیلی مطالعاتی دورہ کیا۔ انہیں مدینہ یونیورسٹی کے قیام کے سلسلہ میں مدعو کیا گیا۔ آپ 1962ء سے اس جامعہ کے قیام تک اس کی اکیڈمک کونسل کے رکن تھے۔ آپ رابطہ عالم اسلامی کی فاؤنڈیشن کمیٹی کے رکن بھی تھے۔ اور اکیڈمی آف ریسرچ آن اسلامک لا مدینہ کے بھی رکن تھے۔

آپ کی تصانیف کا عربی، انگریزی، فارسی، ترکی، بنگالی، جرمن، فرانسیسی، ہندی، جاپانی، سواحلی، تامل، تیلگو سمیت 22 زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ جبکہ مدینہ یونیورسٹی، ریاض، سوڈان، مصر اور دیگر کئی ممالک میں سید مودودی کی کتابیں نصاب تعلیم کا حصہ ہیں۔

1979ء میں سید مودودی کے گردے اور قلب میں تکلیف ہوئی جس کے علاج کے لیے آپ ریاستہائے متحدہ امریکا گئے جہاں ان کے صاحبزادے بطور معالج برسر روزگار تھے۔

آپ کے چند آپریشن بھی ہوئےمگر 22 ستمبر 1979ء کو 76 برس کی عمر آپ کا انتقال ہو گیا۔ آپ کاپہلا جنازہ بفیلو، ریاست نیویارک میں پڑھا گیا اور پھرآپ کا جسدِ خاکی پاکستان لایا گیا اور لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں آپ کا جنازہ قطر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، سابق صدر اخوان المسلمون شام علامہ یوسف القرضاوی نے پڑھایا۔

مولانا سید ابو اعلی مودودی کی تصانیف یہ ہیں ۔

تفہیم القرآن (6 جلدیں)
تفہیمات (5 جلدیں)
رسائل و مسائل (5 جلدیں)
سیرت سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (2 جلدیں)
پردہ
الجہاد فی الاسلام
تنقیحات
مسئلہ قومیت
خطبات
دینیات
شہادت حق
دین حق
سلامتی کا راستہ
بناؤ اور بگاڑ
اسلام اور جاہلیت
اسلام کا اخلاقی نقطۂ نظر
تحریک اسلامی: کامیابی کی شرائط
اسلام کا نظام حیات
اسلام کا سرچشمہ قوت
سنت کی آئینی حیثیت
اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی
خلافت و ملوکیت
حقوق الزوجین
سود
معاشیات اسلام
اسلام اور ضبط ولادت
شرکت و مضاربت کے چند شرعی اصول
مسئلہ ملکیت زمین
ہندوستان کا صنعتی زوال اور اس کے اسباب
اسلامی عبادات پر ایک تحقیقی نظر
قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں
تجدید و احیائے دین
تعلیمات (کتاب)|تعلیمات
سانحہ مسجد اقصی
اسلامی کا نظریہ سیاسی
اسلامی سیاست
خطبات یورپ
خطبات حرم۔

اورل سیکس کی حقیت

ہمارے پیارے رسول اللہ ﷺ ہمیں جانوروں کے بہت سارے افعال اختیار کرنے سے روکا ہے‘مثلاً : آپ ﷺنے ارشاد فرمایا  : ” جب تم  میں سے  کوئی سجدہ کرے تو اپنے ہاتھوں کو کتے کے ہاتھ پھیلا کر بیٹھنے کی طرح نہ پھیلائے“ (سنن ابی داؤد)۔ اور ’’  آپﷺ نے کتے کے بیٹھنے کی طرح بیٹھنے سے منع فرمایا “ (سنن ابن ماجہ) ۔ اور ” آپﷺنے کوے کے چونچ مارنے کی طرح ‘ درندوں کے پاؤں بچھانے کی طرح‘ اونٹ کے بیٹھنے کی طرح افعال اختیار  کرنے سے منع فرمایا ہے‘‘(سنن ابی داؤد)۔

مذکورہ بالا احادیث میں غور کیا جائے تو آپ ﷺ نے جب انسانوں کو جانوروں کے عام افعال کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے، پھر جو قبیح اور گھٹیا افعال ہیں، مثلاً : ’’علی الاعلان مجامعت کرنا اور ایک دوسرے کی شرمگاہ کو چاٹنا‘‘ ان میں جانوروں کی مشابہت  کو کیسے گوارا کیا جاسکتا ہے؟

جانوروں سے انسان نے بہت کچھ سیکھا ہے۔  عقل سلیم رکھنے والوں نے اچھائی اور عقل سقیم والوں نے برائی سیکھا اور اسے اپنایا۔ صدیوں پہلے جب انسان نے دیکھا کہ بعض جانور اپنے منہ اور زبان سے ایک دوسرے کی شرم گاہ چاٹتے ہیں تب بعض مریض ذہنیت کے لوگوں نے اورل سیکس یعنی شرم گاہ چاٹنے کا قبیح طریقہ اپنایا جسے کوئی سلیم الفطرت انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا یا ہے۔

میڈیا کی فحاشی پھیلانے کی وجہ کر آج زیادہ تر لوگ اس فعل قبیح سے آگاہ ہیں اور بعض مسلمان ہونے کے باوجود اس طریقے سے اپنی جنسی تشنگی مٹاتے ہیں۔ اہل مغرب شراب کے نشے میں دھت ہوکر ایک دوسرے کی شرم گاہ جانوروں کی طرح چوستے اور چاٹتے ہیں اور ان سے نکلنے والی گندگی کھا پی  جاتے ہیں لیکن اہل مغرب میں بھی سلیم الفطرت لوگ اس فعل قبیح سے دور رہتے ہیں۔  افسوس کہ آج کے ان مسلمانوں کو دنیا کی لذت کتنی محبوب ہوگئی ہے کہ جس منہ اور زبان سے اللہ کا پاک کلام پڑھتے ہیں‘ اللہ کا پاک نام لیتے ہیں‘ اللہ کا ذکر کرتے ہیں‘ نبی کریم ﷺ کا نام لیتے ہیں اورآپ ﷺ پر درود و سلام بھیجتے ہیں‘ اسی منہ اور زبان کو جانوروں کی طرح گندگی چوسنے‘ چاٹنے اور کھانے پینے میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔  حالانکہ اس قبیح فعل کا جو انجام سامنے آیا ہے اسے دیکھتے ہوئے اب اہل مغرب اپنی نسل کو اس سے دور رہنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ اس فعل قبیح کا انجام دنیا میں مندرجہ ذیل بیماریوں کا تحفہ ہے:

اعضائے تناسل کی ہرپیس۔Genital Herpes
اعضائے تناسل کی وارٹس ۔ Genital Warts
اندام نہانی کی سوزش ۔Bacterial Vaginosis
ہیومن پیپیلوما وائرس ۔  HPV
سوزاک۔ Gonorrhea
آتشک  ۔ Syphlis
کلیمیڈیا  ۔ Chlamydia
کینسر  ۔Cancer 
وائرل ہیپا ٹائٹس ۔ Hepatitis A, B and C
ٹرائکو مونیاسس۔ Trichomoniasis
انسانی جسم کے طفیلیے ( جیسےجووئیں‘  چچڑیاں وغیرہ)۔Public Lice
ایچ آئی وی انفیکشن اور ایڈز۔  HIV Infection and AIDS
وغیرہ وغیرہ

انیل سیکس  یعنی دبر میں وطی کا تحفہ بھی یہ سب اور ان جیسی  دیگر امراض ہیں۔

اب جس کی خواہش ناجائز لذت حاصل کرنا ہو تو وہ چند لمحوں کی لذت کی خاطر ان بیماریوں میں اپنے آپ کو اور اپنی بیوی کو برسوں کیلئے مبتلا کرنا چاہے تو کرے۔  لیکن بحیثیت مسلمان ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ’’ ہمارے خالق نے ہمیں دنیا میں لذت حاصل کرنے کیلئے نہیں بھیجا  بلکہ اپنی عبادت کیلئے بھیجا ہے‘‘۔

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿٥٦﴾۔۔ سورة الذاريات
’’ اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے‘‘۔

لذت حاصل کرنا ایک فطری ضرورت ہے اور اسے فطری طریقے سے ہی حاصل کرنا چاہئے۔ جیسا کہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر ۲۲۲ میں اللہ تعالٰی کا حکم ہے:

فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّـهُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ ﴿٢٢٢﴾ سورۃ البقرہ
’’پھر جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس اس طرح جاؤ جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے۔  یقیناً اللہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (۲۲۲)

اب اللہ نے یہ حکم کہاں دیا ہے؟ تو اللہ نے اس حکم کو انسانی فطرت میں ودیت کر دیا ہے کہ بیوی سے لذت کیسے اور کہاں سے حاصل کرنا چاہئے اور پھر اگلی آیت (نمبر ۲۲۳) میں اسے مزید واضح کر دیا:

نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ ۚ ۔۔۔۔﴿٢٢٣﴾ سورة البقرة
’’ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں پس اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ‘ نیز اپنے لئے نیک اعمال کو آگے بھیجو‘‘۔۔۔۔(۲۲۳)

فرمایا’’ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں‘‘ یعنی مرد کسان ہے اور بیوی اس کی کھیت ہے۔  ہمیں معلوم ہے کہ ایک کسان کی کھیت ہی اس کی سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ اپنی کھیت سے ہی اسے سب سے زیادہ محبت ہوتی ہے کیونکہ کھیت کی پیداوار سے ہی اس کی زندگی کی ساری رونقیں ہیں۔ اب غور کریں کہ کسان اپنی کھیت میں کس لئے اور کس طرح جاتا ہے؟ تو کسان اپنی کھیت کی دیکھ بھال کرنے‘ جھاڑ جھنکاڑ صاف کرنے‘ اس میں کاشت کرنے ‘ ضرورت کے مطابق پانی اور کھاد دے کر بہتر فصل اُگانے کیلئے جاتا ہے۔ وہ فصلوں کو روندتا ہوا نہیں جاتا بلکہ فصلوں کو بچاتے ہوئے جاتا ہے۔

اسی طرح  ایک انسان کی بیوی  ہی اس کی سب سے قیمتی سرمایہ ہے جو اس کی زندگی کی رونق‘ راحت‘ چین و سکون  اور لذت کی  ضامن ہے اور بیوی سے حاصل ہونے والی اولاد اس کی دنیا و آخرت کی فصلیں ہیں۔  لہذا نسل انسانی کی اس کھیت کی دیکھ بال اور اسے تندرست رکھنے اور اس کھیتی میں نسل انسانی کی فصلیں  اُگانے کیلئے ہی اللہ کا حکم ہے ’’ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ‘‘ تو ان کے پاس اس طرح جاؤ جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے جو کہ فرج یعنی سامنے کی شرمگاہ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔  لہذا  اورل سیکس یعنی شرم گاہ چاٹنے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ ناجائز ہے۔

مشت زنی‘ اینل سیکس (دبر میں وطی) ‘  اورل سیکس (شرم گاہ چاٹنا) ‘ ہم جنس پرستی  وغیرہ کی تاریخ بہت قدیم ہے۔   1000 ء  تک عیسائیت میں انہیں بد ترین گناہ سمجھا جاتا تھا اور ان پر سخت تریں سزائیں مقرر تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ عیسائی مذہب میں تبدیلی آئی اور چرچ میں ہی یہ گناہیں ہونے لگی۔

الیکٹرونک میڈیا اور انٹر نیٹ سے سے پہلے مسلمانوں میں بہت کم لوگوں کو ان سب کا علم تھا اور جنہیں معلوم تھا وہ بھی زبان پر انہیں نہیں لاتے تھے۔ لیکن اب ہر دوسرا بندہ  بلا جھجک ان کے بارے میں سوال کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ ان قبیح افعال  کو جائز قرار دے دیا جائے۔

اصحاب رسول اللہ ﷺ میں کوئی ایسا نہیں تھا جو اورل سیکس یعنی شرم گاہ چاٹنے کے بارے میں سوچتا لیکن جو غیر فطری عمل آپ ﷺ کے سامنے آگیا ‘ آپ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔ جس طرح انیل سیکس یعنی دبر میں وطی کرنے والے پر آپ ﷺ  نے پر لعنت کی ہے اور فرمایا ہے: ’’ ایسا شخص ملعون ہے جو عورت کی پچھلی شرمگاہ میں جماع کرتا ہے‘‘ ۔ امام احمد 2/479 نے اسے روایت کیااور یہ حدیث صحيح الجامع 5865 میں بھی ہے۔ اور بھی بہت ساری احادیث اس بارے میں ہے۔

اورل سیکس یعنی شرم گاہ چاٹنا بھی اینل سیکس یعنی دبر میں وطی کی طرح لذت حاصل کرنے کی غیر فطری‘ غیر مہذب‘  شرم و حیا سے عاری ایک قبیح فعل ہے جس میں سوائے غلاظت اور بیماریوں کے کچھ بھی نہیں جو انسان کے جسم ‘ ذہن اور روح تک  کو  گندا  اور بیمار کر دیتا ہے۔
اب جو چاہے  گندگی میں لت پت ہو اور جو چاہے پاکیزگی اختیار کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری ذریت کو پاکیزگی اور پاکیزہ زندگی عطا کرے۔ آمین

Sunday, 2 December 2018

Life Of Maulana Syed Maudoodi......"

Maulana Abu Ala Maududi was born on September 25, 1903 in Aurangabad, a well-known town in the former princely state of Hyderabad, Deccan. He was the direct descendant of Khwaja Qutubuddin Maudood Chishti, whose teachings reached Indo-Pakistan subcontinent through his well-known disciple Khwaja Moinuddin of Ajmer. Maududi’s father Syed Ahmad Hasan Maududi was an advocate by profession. He practiced in Meerut and then shifted to Hyderabad, Deccan. He was educated at Aligarh but in later life was much disgusted with the British Imperialism and western culture. He even gave up his legal profession since he found it contrary to his aim of life. Because of his abhorrence for the English way of life in stead of sending his child to the English schools employed tutors to teach him at home, among all classical subjects, the English language and literature, modern disciplines and Arabic, Persian and Urdu languages.

In 1920 his father passed away. The same year he joined the weekly Medinah of Bijnore (U.P.) and then became the editor of Taj of Jabalpore even before he completed his 17th year. Later he shifted to Delhi and joined the weekly Muslim and thereafter became the editor of the daily al-Jamiat, Delhi, which was an outspoken Muslim newspaper representing Islamic viewpoint and bitterly opposed to the British rule as well as Hindu domination. Under his editorship it became the leading newspaper of the Muslims of India. However, he left al-Jamiat when the organizer party behind it showed a preference for the viewpoint of the Indian National Congress. In 1932 he started his own Journal, Tarjuman al-Quran that soon became very popular among the Muslims of the subcontinent — guiding and inspiring them in every phase of their national existence. Dr. Muhammad Iqbal who was one of the earliest subscribers to Tarjuman al-Quran and held Maulana Maududi in highest esteem sought his cooperation in the task of reconstruction and development of Islamic jurisprudence. After an exchange of views, Dr. Iqbal also invited him to come over to Punjab.

Maududi has written over 120 books and pamphlets and made over 1000 speeches and press statements of, which about 700 are available on record. During 1920-28 he translated four books one from Arabic and the rest were from English. In 1930, his first major and monumental work was Al-Jihad fil Islam, which was highly appreciated by not less than a sage and poet-philosopher, Dr. Iqbal. Al-Jihad fil Islam is an excellent treatise on the Islamic law of war and peace. His discourses on Islam (Khutabat), Islam main Ibadat ka Tasawwur, Masla-e-Jabr-o-Qadr (The Problem of Free Will and Determination), Sunnat ki Aaeena Hasiyat, Tanqeehat were immensely applauded. His Tafhimat explains into rational way the concepts of Islam. Several editions of Purdah (veil), Haqooq-e-Zojain (Rights and Duties of Married Partners), have been published so far as these are highly popular works among the people. One of the most popular books he wrote is Towards Understanding Islam which is a concise and lucid introduction of Islam expounding the fundamentals of beliefs together with the logic and rationale of the path of Islam. However his main and memorable contribution is translation and commentary of the Holy Quran entitled as ‘Tafhim al-Quran’ in six volumes. He took almost 30 years to complete this work. This tafseer has made a tremendous and far-reaching impact on the contemporary Islamic thinking all over the world. His writings revealed his erudition and scholarship, a deep perception and profoundness of the teachings of the Holy Quran and Sunnah. His literature imbued with a critical analysis of the western thought and history has provided fresh avenues of thoughts, newer dimensions of moral excellence and dynamic concept of spiritualism. His books have been translated into the major languages of the world like Arabic, English, French, German, Turkish, Persian, Hindi, Swahili, Tamil, Bengali etc.

He criticized and showed the hollowness of various ideologies, which had begun to spoil the minds and hearts of the Muslims. Through his journal he appealed to the Muslim intelligentsia to ponder over the real call of Islam and if convinced, concentrate their energies on establishing the Islamic way of life not only in their personal life as individuals but also in their political, economic, social and cultural domains. For that purpose Maududi established an academic and research centre Dar al-Islam in collaboration with Allama Iqbal. The main task was to train competent scholars for producing works of outstanding quality on Islam, to launch a full-fledged movement on the pattern of the earliest Caliphate, and above all to carry out the reconstruction of Islamic thought.

Maulana Maududi started taking interest in politics around 1920 and took part in the Khilafat Movement and became associated with the tahrik-i-hijrat. In 1940 he launched a new organization under the name of Jamaat-i-Islami. He was elected First Ameer of Jamaat and retained this portfolio till 1972 which he left due to his deteriorating health. He was the greatest Muslim critic of the Congress. He wrote a series of articles, which were widely circulated and later incorporated in a book, Musalman aur maujooda siyasi kashmakash. He vehemently criticized and condemned all the schemes and programs of the Congress aimed to absorb the Muslims of the subcontinent into a common nationhood and lead them astray from the path of Islam. Maulana Maududi analyzed and showed the errors of judgement of Maulana Hussain Ahmad Madni, one of the topmost scholars of Deoband. The Quaid-i-Azam understood the position of the Jamaat and status of Abul Ala Maududi very well. When he was approached to join the Jamaat-e-Islami, he said that there was no conflict between the Jamaat and the League; the one was working for a higher ideal and the other to realize the pressing immediate which, if lost would make the work of the Jamaat impossible.

After the creation of Pakistan in 1947, there were a series of Maulana’s lectures on different systems of Islam, which were broadcast from Radio Pakistan, Lahore. These lectures commenced in January 1948 and continued up to July 6, 1948. From the outset he kept on reminding the leadership to fulfill the promises made to the nation for establishing an Islamic order, and for this purpose a declaration of the objectives of the state in the legal and constitutional form was of paramount importance. In short, he mobilized his efforts on the establishment of a truly Islamic State and society in the country. For that matter he opposed and criticized the policies pursued by the successive governments of Pakistan. As a result he was arrested time and again and put into jail for long periods. It was due to the efforts of Maulana Maududi and his Jamaat that the Objectives Resolution was passed on March 12, 1949. It was also in accord with the Jamaat’s demand that the Objectives Resolution was incorporated in the Constitution as Preamble.

He opposed the Qadiani movement and in his book Qadiani problem he wrote that Qadianis are not Muslims and they have to be treated as a minority. In 1953 when he was sentenced to death by the martial law authorities on the charge of writing a seditious pamphlet on the Qadiani problem, he didn’t file any petition for mercy and cheerfully accepted the punishment. His firmness and faith in Allah astonished the government and his opponents and critics but due to foreign pressure and strong public strain and stress, government was forced to reduce it to life imprisonment and at length it was completely canceled.

Maulana Maududi toured a lot of countries during the years 1956-1974. These tours enabled the Muslims of those countries to become acquainted with him personally and appreciate his dynamic knowledge and qualities. He lectured in Cairo, Damascus, Amman, Makkah, Jeddah, Kuwait, Rebat, Istanbul, London, New York and Toronto. He also made study tours of Saudi Arabia, Jordon (including Jerusalem), Syria and Egypt in order to probe the geographical and historical phenomena of the places mentioned in the Holy Quran. Maulana was also the member of the Foundation Committee of the Rabitah al-Alam al-Islami, Makkah and the Academy of Research on Islamic Law, Madinah. Maulana Maududi was, indeed, a symbol of Islamic renaissance and an intellectual giant of the modern times. He participated in numerous Muslim international conferences, lectured in the principles cities of most of the Muslim countries and had contacts with Muslim leaders in all parts of the Muslim world.

In April 1979, Maulana Abul Ala Maududi had kidney problem, which worsened with the passage of time, and when he also suffered from heart disease, he had to leave for United States for treatment, where his son had also been practicing as a medical specialist. Following a few surgical operations he died on 22nd September 1979, at the age of 76. His funeral ceremony was held in Buffalo but later he was buried at his residence Ichhra in Lahore, When his dead body arrived at Lahore, the road was jam-packed with swarming people up to more than four miles.

Saturday, 1 December 2018

SMOKERS’ CORNER: MAUDUDI’S ‘POLITICAL ISLAM’


Abul Ala Maududi was once one of the most influential Islamic scholars in the Muslim world. A prolific author and thinker, he is said to have given shape to what began to be known as “political Islam”. Ironically, this term was first used almost exactly a year after Maududi’s demise in 1979. Coined by the American scholar Martin Kramer, the term first appeared in his 1980 book Political Islam. 

The book investigates the emergence of Islam as a political idea after the withering away of left-leaning secular-nationalist regimes in various Arab regions and non-Arab Muslim countries. According to John O. Voll in Oxford Bibliographies, “political Islam” referred to any interpretation of Islam that served as a basis for political identity and action.

In the 1980s, “political Islam” was largely associated with Islamic movements that were inspired by the writings of men such as Pakistan’s Maududi, Egypt’s Hassan al-Banna and Sayyid Qutb, and Iran’s Ruhollah Khomeini. Interestingly, only Khomeini was alive when the term was coined. 

There is enough reason to believe that, had Maulana Maududi been alive today, he would have disapproved of the post-1990s’ trajectory of ‘Political Islam’


Early “political Islam” was fuelled by the intellectual pursuits of these men. However, by the 1990s, political Islam mutated when the movements that it had inspired fragmented and took upon a more militant and violent shape. 

In his 2016 essay, “The Sectarianism of the Islamic State” (Carnegie Endowment for International Peace) H. Hassan writes that the fragmentation gave birth to a new set of ideologues who uprooted “political Islam” from its intellectual grounding. They introduced a more ‘takfiri’ and militant dimension to the discourse of political Islam. This led to the creation of a number of violent and even anarchic insurgencies in Muslim countries. 

Even though Maududi was an early critic of the idea of Pakistan and had dismissed the country’s founder Muhammad Ali Jinnah for being ‘secular’ and Westernised, there is enough reason to believe that, had Maududi been alive today, he would have disapproved of the post-1990s’ trajectory of “political Islam”.

Before the coinage of the term “political Islam”, Maududi had described the political expression of Islam as ‘Islamic ideology’. He insisted that politics was inherent in Islam and could not be separated from the faith. But this idea was mostly rejected by ‘Muslim modernists’ who claimed that such thinking could only lead to the creation of a totalitarian theocracy. This was observed by modernists such as Dr Khalifa Abdul Hakim, Justice Munir Malik, Field Martial Ayub Khan, Dr Fazalur Rahman Malik and, to a certain extent, by Z.A. Bhutto.

According to Leonard Binder’s 1961 book Religion and Politics in Pakistan, this idea was also derided by the more traditionalist Islamic outfits, but for different reasons. They accused Maududi of trying to “create a new creed.” Binder adds that this was mainly because Maududi did not believe that the ulema and the clergy were capable of installing the kind of Islamic state that he was propagating. Binder writes that, after finally accepting Pakistan in 1948, Maududi instructed his party the Jamaat-i-Islami (JI) to find ways to influence state and government personnel to adopt his ideas for the “gradual formation of an Islamic State.” 

Maududi’s ideas found a large Muslim middle-class audience, as opposed to those formulated by other religious outfits such as Majlis-i-Ahrar and Jamiat Ulema-i-Islam (JUI). This was mainly due to the fact that Maududi’s turn towards studying Islam did not come by studying at a traditional madressah.

Maududi was born in 1903 in Aurangabad, India, into a family that had relations with the modernist Muslim scholar Syed Ahmed Khan. According to Professor Irfan Ahmed (in the Princeton Encyclopaedia of Islamic Political Thought), Khan convinced Maududi’s grandfather to enroll his son (Maududi’s father) into Khan’s Muhammadan Anglo-Oriental College (MAO) College in Aligarh. The father became an enthusiastic supporter of Khan’s modernist ideas. But incensed by the “liberal” and “Westernised” lifestyle of the students of the college, the grandfather pulled him out. 

Maududi’s father soon renounced everything that had attracted him at the college and became extremely religious. When Maududi was born, he vowed not to give his son a Western education. So Maududi received his early education at home through private tutors. Maududi was then sent to the Oriental High School where the curriculum had been designed by famous Islamic scholar Shibli Nomani. At age 16, Maududi left school and, after his father’s demise, began his career as a journalist. 

Even though he was associated with a newspaper owned by the JUI-Hind, Maududi did not exhibit any overt signs of religiosity. Binder writes that all the while Maududi was devouring books on Islamic law and history and also studying the works of European philosophers, but he hadn’t grown a beard till after 1932. Binder wrote that Maududi was also fond of wearing Western clothes.

Prof Irfan writes that Maududi enjoyed cinema, theatre and music. Vali Nasr, in his book Maududi and the Making of Islamic Revivalism, writes that Maududi’s wife, Mahmudah Begum, “was quite liberated.” She did not observe purdah and rode a bicycle in public. In fact, according to Binder, in 1921, one of the first Arabic books that Maududi translated into Urdu was an Egyptian tome that was critical of the tradition of purdah.

According to Binder, Maududi went through a sudden transformation after witnessing the mushrooming of nationalist sentiments in India’s Muslim community. As a consequence, he was dismayed by the manner in which Muslim modernists had downplayed the idea of jihad as mandatory armed struggle. He rejected their assertion that jihad meant an internalised and non-violent personal struggle.

In 1932, Maududi published his first major book, Towards Understanding Islam, and emerged as a theologian who slammed the interpretations of Islam’s sacred texts by Muslim modernists. He also managed to upset many ulema by claiming that they didn’t have the tact to impose the sharia in 20th century conditions.

Maududi continued to fall in and out with the Pakistani establishment till the 1970s. He was sentenced to death in 1954 and, in 1964, his party was banned. But his ideas became the foundation upon which a protest movement against the Z.A. Bhutto regime was launched in 1977.

Maududi supported the reactionary military coup against Bhutto and saw it as a vessel through which his ideas could gain currency in the country’s constitution. This did become a reality in the 1980s, but Maududi was not alive to see it; he passed away in 1979. Nor was he alive to see many of the same ideas mutate and become associated with the more violent and militant expressions of political Islam.