Friday, 16 November 2018

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللّٰہ علیہ کا سفر آخرت

گیارہ ستمبر بانی پاکستان ،قائد اعظم محمد علی جناح کی برسی کا دن ہے ۔ یہ وہی روز ہے جب تاریخ کا ایک سنہری باب بند ہوا۔ نوجوان نسل اس دن کی اہمیت اور اس دن ہونے والی سرگرمیوں سے بخوبی آگاہ رہے اسی خیال کے پیش نظر یہ یادگار لمحات ایک رپورٹ کی صورت شائع کئے جارہے ہیں۔
گیارہ اور12ستمبر1948ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب کے تین بجے تھے جب ایک سرکاری اعلامیے میں یہ کہا گیا کہ حکومت پاکستان انتہائی حزن و ملال کے ساتھ اعلان کرتی ہے کہ ہفتہ11ستمبر 1948کی رات 10بج کر 25منٹ پر قائد اعظم محمد علی جناح حرکت قلب رک جانے کے باعث اس جہان فانی سے رحلت فرماگئے۔
قائد اعظم کا جنازہ اتوار کو دن کے تین بجے گورنر جنرل ہاؤس سے سفر آخرت پر روانہ ہوگا۔نمازجنازہ کراچی کے نمائش کے میدان میں ادا کی جائے گی۔ نماز جنازہ مولانا شبیر احمد عثمانی پڑھائیں گے جبکہ قائد کی تدفین اسی مقام پر ہوگی جسے جامع مسجد کی تعمیر کیلئے تجویز کیا گیا تھا۔
بارہ ستمبر1948 ء
بارہ ستمبر1948 ء کی صبح7بجے ہی دنیا بھر کی نشر گاہوں سے قائد اعظم کی وفات کی خبریں آنا شروع ہوگئیں۔پاکستانی نشرگاہوں سے مسلسل قرآن پاک کی تلاوت کی جاری تھی۔
کراچی سے لاہور،راولپنڈی سے درہ خیبر اور سلہٹ سے ڈھاکا ۔۔پورے پاکستان کا ماحول افسردہ اور غمگین تھا۔سات لاکھ سے زائدآبادی والا دارالخلافہ کراچی مکمل سوگ میں تھا۔بازار، کاروبار، ٹرانسپورٹ، ڈاک خانے سب بند تھے۔سرکاری طور پر ملک بھر میں 40 روزہ یوم سوگ کا اعلان کیا گیاجبکہ ملک بھر کے سینما گھر اگلے5روز کیلئے بندکردیئے گئے۔
دن کے پونے تین بجے تمام وزراء، ا اعلیٰ حکام اورسفارت کار اس ہال میں جمع ہوئے جہاں قائد اعظم کا جسد خاکی دیدار کیلئے موجود تھا۔
وزیرخارجہ سر ظفر اللہ خان نے آخری دیدار کیلئے قائد کے چہرے سے چادر اٹھائی۔دیدار کے بعدمیت کو قریبی کمرے میں لے جایا گیا جہاں جنازہ مرتب کیا گیا ۔اس مقام سے خاص دروازے تک کاندھا دے کرمیت لانے والو ں میں وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان ،وزیرخارجہ سر ظفر اللہ خان،سردار عبدالرب نشتر،پیر الٰہی بخش ،پیرزادہ عبدالستار اورسید میران محمدشاہ شامل تھے۔
گورنر جنرل ہاؤس کے اطراف لاکھوں انسانوں کا سمندر تھا جو اپنے محبوب قائد کے آخری سفر میں شریک ہونے کیلئے صبح سے ہی پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔
قائد کا جنازہ گورنرہاؤس کے صحن میں رکھا گیا۔سفید بستر پر میت پھولوں سے لدی ہوئی تھی۔ عوام اپنے قائد کا آخری دیدارکررہے تھے۔
مزید ہزارہا آدمی گورنر جنرل ہاؤس کی طرف امنڈرہے تھے اور کئی دیوار پھاند کر اندر داخل ہونا چاہتے تھے۔کچھ نے جوش جذبات میں گورنر جنرل ہاؤس کے دروازے کو توڑدیا۔بمشکل پولیس اور فوج ان پر قابوپاسکی۔گھنٹہ بھر کی کوششوں کے بعد دو قطاریں ایک ایک میل لمبی بنائی گئیں۔
ماحول بہت افسردہ تھا ۔کئی افراد شدت غم سے بے ہوش ہوگئے۔سردار عبدالرب نشتر آخری دیدار کرتے وقت زارو قطار رورہے تھے۔
سفید لباس میں ملبوس اور سرخ آنکھیں لئے محترمہ فاطمہ جناح صبح سے ہی رو رہی تھیں ، قائد کی صاحبزادی مسز واڈیاکے آنے کے بعدوہ کچھ سنبھلی نظرآئیں۔قائد کے بھتیجے اوران کی بیوی مس فاطمہ ولی بھی فاطمہ جنا ح کو تسلی دے رہی تھیں۔
قائد کاجنازہ دروازے پرپہنچا تووہاں موجود افراد کلمہ طیبہ کاورد کررہے تھے۔وزرا نے اپنے ہاتھوں سے جنازے کو گاڑی پر رکھا۔ہجوم گاڑی کے دونوں جانب ایک قطار بنا کر کھڑا ہوگیا۔
دن کے تین بجے تھے قائد اعظم کا جنازہ ایک توپ لے جانے والی گاڑی پر رکھا گیا۔پولیس کے 50سپاہی آگے آگے تھے۔ ان کے پیچھے شاہی بحریہ کے50 جوان ،پھر بری فوج کے50اور پھر فضائیہ کے50جوان موجود تھے۔قائد کے جنازے کی گاڑی پاک بحریہ کے سپاہی چلارہے تھے۔
ان کے پیچھے دو کاریں تھیں ۔ ایک میں محترمہ فاطمہ جناح اور قائد اعظم کی دختر موجود تھیں جبکہ دوسری میں بیگم ہدایت اللہ سوار تھیں۔قائد کی اکلوتی صاحبزادی خصوصی طیارے سے آج ہی بمبئی سے کراچی پہنچی تھیں۔
سوا تین بجے قائد کا جنازہ گورنر جنرل ہاؤس سے نکل کر وکٹوریہ روڈ انفسٹن اسٹریٹ سے ہوتا ہوا تقریباًایک گھنٹے تک گارڈن روڈ اور پھر بندرروڈ پہنچا۔اس دوران کم و بیش 6لاکھ لوگ اس میں شامل رہے جبکہ راستے کے دوران آنے والے گھروں اور عمارتوں پر بھی انگنت عوام اپنے عظیم قائد کے آخری دیدار کیلئے موجودتھی ۔
نماز جنازہ
ساڑھے 4بجے جنازہ نمائش کے میدان میں پہنچ گیا جہاں قائد کی تدفین کی جانی تھی۔نمائش کے میدان میں ایک ستون بنایاگیا تھا۔ اس ستون کے نیچے مولانا شبیر احمد عثمانی نے نماز جنازہ پڑھائی۔6لاکھ کا مجمع نماز میں شریک تھا۔پہلی صف میں وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان کے ساتھ کئی وفاقی اورصوبائی وزراء اور اسلامی ممالک کے سفیرموجود تھے۔
مولانا شبیر احمد عثمانی کا خطاب
نمازجنازہ کے فوری بعد مولانا شبیر احمد عثمانی نے مجمع سے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ اب قائد اعظم اپنی قوم میں موجود نہیں جو قوم کی رہنمائی کرسکیں مگر قائد اعظم کی ہدایات اور جذبہ مسلسل قوم کی رہنمائی کرتا رہے گا۔قائداعظم کی وفات صرف پاکستان ہی کا نقصان نہیں بلکہ یہ ساری اسلامی دنیا کا نقصان ہے۔
تدفین
قائد اعظم کا جنازہ اٹھا کرایک فرلانگ دور قبر تک لے جایا گیا،جنازے کو بحری اور فضائیہ کے افسروں نے اٹھایا ۔اس موقع پرجنازے کے تینوں طرف فوج کے تین بڑے افسران موجود تھے۔
میت جیسے ہی قبر پر پہنچی پاک فضائیہ کے طیارے نے فضا میں غوطے لگاکر جنازے پر پھولوں کی بارش کرکے قائد اعظم کو آخری سلامی پیش کی۔
شام 6بج کر24منٹ۔۔ وہ لمحہ جب قائد کاجسد خاکی لحد قبر میں اتار ا گیا۔وزیراعظم لیاقت علی خان اور دیگر وزرا نے قائد اعظم کا جسد خاکی قبر میں اتارا۔ اس کے بعد قبر پرسب سے پہلے مٹی بھی قائد ملت لیاقت علی خان نے ڈالی جس کے بعد دیگر وزراء اور اسلامی ممالک کے سفیر وں نے مٹی ڈالی۔اس کے بعد لاکھوں غمگین انسانوں کا مجمع کلمہ طیبہ پڑھتا ہوا خاموشی کے ساتھ منتشر ہوگیا۔

Thursday, 15 November 2018

قرآن و سنت کی روشنی میں جہاد فی سبیل اللہ کا مقام۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہے، دنیا کے سارے مذاہب میں احترامِ نفس کا یہ اصول موجود ہے اورجس مذہب اورقانون میں اس دفعہ کو تسلیم نہیں کیاگیاہے، اس مذہب اور قانون کے تحت رہ کر کوئی انسان پُرامن زندگی نہیں گذارسکتا ہے۔

          اور اگر خالص انسانیت کی نظر سے دیکھا جائے، تو اس لحاظ سے بھی کسی ذاتی مفاد کی خاطر اپنے بھائی کو قتل کرنا، بدترین جرم ہے، جس کا ارتکاب کرکے انسان میں کوئی اخلاقی بلندی پیدا کرنا تو در کنار، اس کا درجہٴ انسانیت پر قائم رہنا بھی ناممکن ہے۔

          دنیا کے سیاسی قوانین، تو انسانی احترام کو صرف سزا کے خوف سے قوت کے بل بوتے پر قائم کرتے ہیں؛ مگر ایک سچے دین ومذہب کا کام انسانی دلوں میں اس کی صحیح قدر وقیمت پیدا کردیتا ہے؛ تاکہ جہاں انسانی تعزیر کا خوف نہ ہو، وہاں بھی ایک انسان دوسرے انسان کا خون کرنے سے پرہیز کرے، اس نقطئہ نظر سے احترامِ نفس کی جیسی صحیح اور موٴثر تعلیم اسلام میں دی گئی ہے، وہ کسی دوسرے اور ادیان ومذاہب میں ناپید ہے، قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر مختلف انداز وپیرایہ سے اس تعلیم کو انسانی دلوں میں دل نشیں کیاگیا ہے؛ چنانچہ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ یَزْنُوْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ أَثَاماً﴾ (الفرقان:۶۸) ترجمہ: ”اور جس ذات کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اس کو قتل نہیں کرتے ہیں، ہاں مگر حق پر اور وہ زنا نہیں کرتے اور جو شخص ایسے کام کرے گا تو سزا سے اس کو سابقہ پڑے گا۔“

          اس تعلیم کے اولین مخاطب وہ لوگ تھے، جن کے نزدیک انسانی جان ومال کی کوئی قدر وقیمت نہ تھی اور جو اپنے ذاتی مفاد کے لیے اولاد جیسی عظیم نعمت کو بھی موت کے گھاٹ اتارنے میں فخر محسوس کیا کرتے تھے؛ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طبیعتوں کی اصلاح کے لیے خود بھی ہمیشہ احترامِ نفس کی تلقین کیاکرتے تھے، احادیثِ مبارکہ کا مطالعہ کرنے والے حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ اس قسم کے ارشادات وبیانات سے بھرا پُرا ہے، جس کے اندر ناحق خون بہانے کو گناہِ عظیم اور بدترین جرم بتایا گیا ہے، جیسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”الکبائرُ الاشراکُ باللّٰہِ وقتلُ النَفْسِ وعقوقُ الوالدینِ والیَمِیْنُ الغَمُوسُ“(مشکوٰة:۱۷، باب الکبائر وعلامات النفاق) ترجمہ: بڑے گناہوں میں سے اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جان مارنا، والدین کی نا فرمانی کرنا اور جھوٹی قسمیں کھانا ہے۔

          حرمت نفس کی یہ تقسیم کسی فلسفی یا معلم اخلاق کی نہ تھی کہ اس کا دائرئہ کار صرف کتابوں کی حد تک محدود رہتا؛ بلکہ وہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم تھی، جن کا ہر ہر لفظ مسلمانوں کے لیے ایمان ویقین کا درجہ رکھتا ہے، جن کی پیروی ہر اس شخص پر واجب اور ضروری ہوجاتی ہے، جو کلمہٴ توحید (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) کا اقرار کرتا ہو؛ چنانچہ ایک چوتھائی صدی کے قلیل عرصہ میں ہی اس تعلیم کی بدولت عرب جیسی خونخوار اور جانور نما قوم کے اندراحترامِ نفس اور امن پسندی کا ایسا مادہ پیداہوا کہ ایک عورت رات کی تاریکی میں تنِ تنہا قادسیہ سے صنعا تک سفر کرتی تھی اور کوئی اس کی جان ومال پر حملہ نہ کرتا تھا اور بہ حفاظت وہ اپنی منزل تک پہونچ جایا کرتی تھی؛ حالانکہ یہ انھیں درندوں اور لٹیروں کا شہر اور ملک تھا، جہاں بڑے بڑے دل گردے والے بھی گذرتے ہوئے لرزجایا کرتے تھے، گویا کہ حیوانیت اور قساوتِ قلبی ان کے لیے عام بات تھی، ایسے سنگین حالات میں اسلام نے ببانگِ دُہُل یہ آواز بلند کی: ﴿وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلاَّ بِالْحَقِّ﴾ (الفرقان:۶۸) ”یعنی انسانی جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے،اس کو ناحق قتل مت کرو؛ مگر اس وقت جب کہ حق اس کے قتل کا مطالبہ کرے“ اس آواز میں ایک قوت وطاقت تھی؛ اس لیے دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہونچی اور اس نے انسانوں کو اپنی جان کی صحیح قدر وقیمت سے آگاہ کیا، خواہ کسی قوم وملت نے یا کسی ملک وشہر نے اسلام کو اختیار کیا ہو یا نہ کیاہو، اجتماعی تاریخ کا کوئی بھی انصاف پسند انسان اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا کے اخلاق وقوانین میں انسانی جان کی حرمت وکرامت قائم کرنے کا جو فخر مذہبِ اسلام کو حاصل ہے وہ کسی دوسرے ادیان ومذاہب کو حاصل نہیں۔

          غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ﴿وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ﴾ ہی نہیں فرمایا؛ بلکہ ﴿اِلاَّ بِالْحَقِّ﴾ بھی کہا گیا، ایسے ہی ﴿مَنْ قَتَلَ نَفْساً فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعاً﴾ ہی نہیں فرمایا؛ بلکہ اس کے ساتھ ﴿بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِیْ الْاَرْضِ﴾ بھی کہا گیا، یہ نہیں کہ کسی بھی جان کو کسی بھی حال میں قتل مت کرو، اگر ایسا کہا جاتا ، تو یہ عدل کے بالکل خلاف ہی نہیں؛ بلکہ حقیقی ظلم ہوتا، دنیا کو اصل ضرورت اس بات کی نہ تھی کہ انسان کو قانونی گرفت سے بالکل آزاد کردیاجائے کہ جتنا چاہے، جہاں چاہے، جب چاہے فساد برپا کرے، جس قدر چاہے ظلم وستم کے پہاڑ توڑے، جس کو چاہے اور جب چاہے بے آبرو کرکے اس کی عزت وآبرو کا جنازہ نکال دے اور ان تمام کے باوجود اس کی جان محترم ہی رہے؛ بلکہ اصل ضرورت یہ تھی کہ دنیامیں امن وامان کی خوش گوار فضا قائم کی جائے اور ایک ایسا منظم دستورالعمل تیار کیاجائے، جس کے تحت ہر فرد اپنی حدود میں آزاد رہے اور کوئی شخص اپنے حدود سے تجاوز نہ کرے، اس غرض کے لیے ﴿اِلاَّ بِالْحَقِّ﴾ کی محافظ قوت درکار تھی ورنہ امن کی جگہ بدامنی ہوتی۔

قتل حق اور قتل ناحق اور قتل بغیر الحق کا فرق

          قتل ناحق کی ایسی سخت ممانعت اور قتل حق کی ایسی سخت تاکید کرکے شریعت ِ اسلامیہ نے افراط وتفریط کی راہوں کے درمیان عدل وتوسط کی سیدھی راہ کی طرف ہماری راہ نمائی کی ہے، ایک طرف وہ مُسرف اور حد سے تجاوز کرنے والا گروہ ہے، جو انسانی جان کی کوئی قدر وقیمت نہیں سمجھتا اور دوسری طرف وہ غلط فہم اور کورچشم گروہ ہے، جو انسانی خون کی دائمی حرمت کا قائل ہے اور کسی صورت میں بھی اسے بہانا جائز نہیں گردانتا،اسلام نے ان دونوں غلط خیالوں کی تردید کردی اور اس نے یہ تعلیم دی کہ انسانی نفس کی حرمت نہ تو ابدی اور دائمی ہے اور نہ اس کی قدر وقیمت اس قدر ارزاں اور سستی ہے کہ نفسانی جذبات کی تسکین کی خاطر اسے ہلاک کردینا جائزہو؛ مگر جب وہ سرکشی اختیار کرکے حق پر دست درازی کرتاہے، تو اپنے خون کی قیمت کو کھودیتا ہے، پھر اس کے خون کی قیمت اتنی بھی نہیں رہ جاتی جتنی کہ پانی کی قیمت ہوتی ہے۔

جنگ ایک اخلاقی فریضہ

          جب کوئی جماعت سرکشی پر اتر آتی ہے، تو وہ کوئی ایک فتنہ نہیں ہوتا، جو وہ برپا کرتی ہو؛ بلکہ ان میں طرح طرح کے شیطان صفت انسان بھی شامل ہوتے ہیں اور ہزاروں طرح کے فتنے ان کی بدولت وجود پذیر ہوتے ہیں، ان شیطانوں میں سے تو بعض طمع وحرص کے پجاری ہوتے ہیں جو غریب قوموں پرڈاکہ ڈالتے ہیں اور ان کے خون پسینہ سے کمائے ہوئے روپیوں پیسوں کو اپنی عیارانہ چالوں سے لوٹتے ہیں اور پھر اپنی تجوریاں بھرتے ہیں، عدل وانصاف کو مٹاکر جور وجفا کے علَم کو بلند کرتے ہیں، ان کے ناپاک اثر سے قوموں کے اخلاق تباہ وبرباد ہوجاتے ہیں، تو ایسی حالت میں جنگ جائز ہی نہیں؛ بلکہ فرض ہوجاتی ہے، اس وقت انسانیت کی سب سے بڑی خدمت یہی ہوتی ہے کہ ان ظالم بھیڑیوں کے خون سے صفحہٴ ہستی کے سینے کو سرخ کردیا جائے اور ان مفسدوں کے شر سے اللہ کے مظلوم وبے کس بندوں کو نجات دلائی جائے، جو شیطان کی امت بن کر اولادِ آدم پر اخلاقی، روحانی اور مادی تباہی کی مصیبتیں نازل کرتے ہیں، وہ لوگ انسان نہیں؛ بلکہ انسانوں کی شکل وصورت میں درندے اورانسانیت کے حقیقی دشمن ہوتے ہیں، جن کے ساتھ اصلی ہمدردی یہی ہے کہ ان کو صفحہٴ ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹادیا جائے، ایسے وقت میں ہر سچے، بہی خواہ انسانیت کا اولین فرض ہوجاتا ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف تلوار اٹھائے اور اس وقت تک آرام نہ کرے، جب تک کہ خدا کی مخلوق کو اس کے کھوئے ہوئے حقوق واپس نہ مل جائیں۔

جنگ کی حکمت ومصلحت

          جنگ کی مصلحت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکیمانہ انداز میں بیان فرمایا ہے کہ : ﴿وَلَوْلاَ دَفَعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّ صَلَوٰاتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْراً﴾(الحج:۴۰): ”اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ دفع نہ کرتا، تو صومعے اور گرجے اور معبد اور مسجدیں، جن میں اللہ کا ذکر کثرت سے کیاجاتا ہے، مسمار کردیے جاتے۔“

          جنگ کی اسی مصلحت کو ایک دوسری جگہ یوں بیان فرمایا ہے کہ: ﴿وَلَوْلاَ دَفَعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوْفَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ﴾ (البقرہ:۲۵۱) ترجمہ: ”اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ دفع نہ کرتا، تو زمین فساد سے بھر جاتی؛ مگر دنیا والوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے۔“ (کہ وہ دفعِ فساد کا انتظام کرتا رہتا ہے)

جہاد فی سبیل اللہ

          یہی فساد وبدامنی ظلم وجبر کی جنگ ہے، جس کو دفع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کو تلوار اٹھانے کا حکم دیا ہے؛ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتِلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرُ o الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلاَّ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ﴾ (الحج:۳۹-۴۰) ”جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے، انھیں لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے؛ کیونکہ ان پر ظلم ہوا ہے اور اللہ ان کی مدد پر یقینا قدرت رکھتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں، جو اپنے گھروں سے بے قصور نکالے گئے، ان کا قصور صرف یہ تھا کہ یہ اللہ کو اپنا پروردگار کہتے تھے“ اس کے اندر جن لوگوں کے خلاف جنگ کرنے کا حکم دیا جارہا ہے، ان کا جرم یہ نہیں بیان کیا جارہا ہے کہ وہ ایک دوسرے مذہب کے پیروکار ہیں؛ بلکہ ان کا جرم واضح انداز میں یہ بیان کیاجارہا ہے کہ وہ ظلم کرتے ہیں، لوگوں کو بے قصور ان کے گھروں سے نکالتے ہیں، ایسے لوگوں کے خلاف صرف مدافعتی جنگ کا حکم نہیں دیاگیا؛ بلکہ دوسرے مظلوموں کی اعانت کا بھی حکم دیاگیا اور تاکید کی گئی کہ کمزور و بے بس لوگو کو ظالموں کے پنجوں سے چھڑاؤ۔

حق وباطل کی حد بندی

          پھر اللہ تعالیٰ نے جنگ کی اہمیت وضرورت کو ظاہر کرنے کے بعد یہ تصریح بھی فرمادی : ﴿اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ج وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْآ اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ ج اِنَّ کَیْدَ الشَّیْطٰنِ کَانَ ضَعِیْفاً﴾ (النساء:۷۶) ”جو لوگ ایمان دار ہیں، وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جو کافر وسرکش ہیں وہ ظلم وسرکشی کی خاطر لڑتے ہیں، پس شیطان کے دوستوں سے لڑوکہ شیطان کی تدبیر لچر ہوتی ہے“ یہ ایک قولِ فیصل ہے، جس کے اندر حق وباطل کے درمیان خط کھینچ دی گئی ہے کہ جو لوگ ظلم وسرکشی کے لیے جنگ کریں گے، وہ شیطان کے حامی ہیں اور جولوگ ظلم کو مٹانے کے لیے جنگ کرتے ہیں، وہ راہِ خدا کے مجاہد ہیں۔

جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت

          یہی وہ جہاد ہے، جس کی فضیلت سے قرآن وحدیث کے صفحات بھرے پُرے ہیں، یہی وہ حق پرستی کی جنگ ہے، جس میں ایک رات کا جاگنا ہزار راتیں جاگ کر عبادت کرنے سے بڑھ کر ہے، جس راہ میں غبار آلود ہونے والے قدموں سے وعدہ کیا گیاہے کہ ان کو جہنم کی آگ کی طرف نہیں گھسیٹا جائے گا۔

جہاد کی فضیلت کی وجہ

          جہاد فی سبیل اللہ کی اتنی فضیلت اور تعریف کس لیے ہے؟ اس جہاد سے دنیا کی دولت اور ملک گیری مقصود نہیں ہے، تو آخر اللہ تعالیٰ اس کے عوض بڑے بڑے درجے کیوں دے رہے ہیں؟ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کی زمین پر فتنہ وفساد پھیلایا جائے، اسے یہ برداشت نہیں ہے کہ اس کے بندوں کو بے قصور تباہ وبرباد کیا جائے، پس جو گروہ بغیر کسی حرص وطمع کے محض خدا کی رضا کی خاطر دنیا کو اس فتنہ سے پاکر کرنے کے لیے کھڑا ہوجائے اور اس نیک کام میں اپنا سب کچھ قربان کردے، اس سے زیادہ اللہ کی محبت، اللہ کی رضا مندی کا مستحق کون ہوسکتا ہے؟ اس مضمون کے اندر اسی فضیلت وحقیقت کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ نیکی کے قیام و بقا کے لیے سب سے اہم چیز اس کی حفاظت کرنے والی سچی قربانی کی روح ہے اور جس قوم سے یہ روح نکل جاتی ہے، وہ بہت جلدبدی سے مغلوب ہوکر تباہ وبرباد ہوجاتی ہے۔

Wednesday, 14 November 2018

Who is your favorite Muslim Emperor.....?

Umar Ibn Al-Khattab (r.a) used to say: “There will be among my off-springs a man with a scar in his face who will fill the earth with justice same as it was filled with injustice and oppression.”

Once an animal hit a boy leaving a scar in his face, his father said while wiping the blood off his face: “If you were to be the one with a scar, then you would be the happiest among the Umayyads". That boy was Umar Ibn Abdul Aziz. The caliph who changed the oppression and injustice into justice, and who lived a life full of virtues and wisdom.

When he was assigned as a caliph, Omar Ibn Abdul Aziz discarded and left the pompous accessories of a princely life–servants, slaves, maids, horses, palaces, golden robes and landed estates–and returned them to the public treasury. His family and relatives were given the same orders. He became known as the Fifth Rightly Guided Caliph of the Islamic nation because of his similarity to the Rightly Guided Caliphs.

He ruled just for two and a half year but this period was enough to change the life of the whole empire. His reforms made the empire with no poor. It has been narrated by Yahya bin Said, who was governor at the time :

“I was sent by Umar Ibn Abdul Aziz to collect zakat from Africa. After collecting it, I intended to give it to the poor people. However, I did not find one. Umar Ibn Abdul Aziz has made all the people rich during that time. Finally, I decided to use the zakat fund to buy and emancipate slaves"

Amongst many firsts, Omar Ibn Abdul Aziz was the first Muslim ruler to turn his attention away from external conquest. He recalled the Muslim armies from the borders of France, India and the outskirts of Constantinople. It was during his Caliphate that internal uprisings and disturbances ceased.

He was the first ruler to stop people from cursing Imam ‘Ali Ibn Abi Talib (r.a) from the minarets, an orders that Umaiyyads used to give.

He was the first revivalist Emir (prince), a real ascetic that left the lavish and extravagant life of places to the life of worship and piety.
He treated Bani Hashim and the Shi’as with fairness and dignity. He even extended his hand to the Kharijites. According to Ibn Kathir, he wrote to the Kharijite leader Bostam, inviting him to an open discussion about the Caliphate of Uthman (r.a) and Ali (r.a).

However, these beautiful and twinkling days soon ended when a slave who was bribed by Umayyads to administered a deadly poison. When the Caliph felt the effects of the poison and had come to understand the plot he sent for the slave and asked him why? The slave replied that he was given one thousand dinars so Omar then deposited that exact amount into the Public Treasury and freed the slave. He advised him to leave immediately in case Omar’s enemies killed him. Omar Ibn Abdul Aziz died after a rule that lasted only two and a half years. He was thirty-nine years old at the time of his death.

Why didn't the Pakistan Army get an alert when the CIA invaded Pakistan to kill Osama.....?

Pakistani version, Pakistan was fully aware of the operation & it was well planned with the Pakistan intelligence & army.

Pakistani General, Pervaiz Kiyani was on board with that time president Asif Ali Zardari to allow US to raid the Osama Bin Laden residence.

Right after the incident, world media (not US) startet claiming that operation was well designed by both militaries. Many American senators also discarded the US version of the operation and believed that Pakistan was on board.

In 2001, Hamid Mir wrote in his book, that Osama bin Laden escaped a lethal semi-nuclear attack by US forces in Afghanistan when he was interviewing him. He confirmed that Osama got the info & left the cave just 4 minutes before the attack. (So how come Osama didn’t know the upcoming Abbotabad attack?)

Many mobile videos of operations went viral on YouTube showing ‘noisy’ helicopters hovering over the Abbottabad city made by citizens. (If a helicopter was visible to a local then how can army wouldn’t be aware of that activity when it all happened near the millitary academy?). Infact Pakistani military aircraft was flying nearby to watch the operation.(see YouTube video in which locals claimed they heared two F-16 were flying by during operation).

Also on US instructions, Pakistan immediately raised the raided building without giving access to local or international media (whereas after APS attack in Peshawar, the forces opened the devastated school to media very next day without cleaning a single blood stain)

Controversial points:

• Why US intelligence claimed that they discarded Osama’s body in the Arabian Sea when there was no space left for the comandos in one helicopter as the other copter was down & damaged in the operation!!

• Arabian Sea is ~1,200 KM far from Abbottabad but Obama claimed that US seals burried his body within few hours after the operation. Whereas they also claimed that seals immediately flew into Afghanistan after the operation. (So how did they manage to fly to Arabian Sea all across Pakistan {without Pak army permission} or Iran’s {an anti-US country})?

Many analysts still believe that the operation was just a sham to get political advantage in November 8, US elections and Osama was just a myth!

مسلمانوں کا سب سے خطرناک ہتھیار

عالمِ کفر کو ہماری نمازوں سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ نہ انہیں سروکار ہے ہمارے روزوں سے ۔ نہ ہی حج سے ۔ ہماری جو عبادت عالم کفر کے سینے میں کانٹے کی طرح چبھتی ہے وہ ہے جہاد ۔
اگر آپ اسلام کی تاریخ پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ مسلمانوں نے اس دنیا پر تب تک حکومت کی ہے جب تک جہاد کرتے رہے ۔ جب مسلمان عیاشیوں میں مبتلا ہوئے تبھی سے اسلام کا پرچم سرنگوں ہونا شروع ہوا ۔آج بھی آپ عالمِ کفر کے آگے سر اٹھا کر جیتا انہی قوموں کو دیکھتے ہیں جو جہاد پر عمل پیرا ہیں ۔
جو مسلمان کافر کے خلاف جہاد کریں ان کی شکست ناممکن ہے یہ بات رب العزت کی طرف سے طے شدہ ہے ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں ۔ کجا یہ کہ کسی کو اپنے رب کے وعدے پر ہی بھروسہ نہ ہو ۔ لڑنے والے محض کلاشنکوفوں سے دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کے مشترکہ اتحاد کو دھول چٹا دیتے ہیں اور جنہوں نے نہیں لڑنا وہ بے شک ایٹم بم رکھ کر گھومتے رہیں ۔ وہ ایٹم بم بھی انہیں عزت دلانے میں ناکام رہتا ہے ۔
مسلمانوں کے دلوں سے جہاد کی محبت نکالنے کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے ۔ اگر آپ آج سے بیس سال پیچھے جائیں تو پاکستان کے اسکولوں کی کتابوں میں سورہ محمد اور سورہ احزاب کی آیات ہوا کرتی تھیں ۔ مگر نائن الیون کے بعد ہمارے اس دور کے (مسلمان) حکمرانوں کو یقین دلایا گیا کہ قران کی یہ آیات پاکستان کے بچوں کے لیئے مناسب نہیں لہٰذا انہیں کورس میں شامل نہیں رہنا چاہیئے ۔ ہمارے حکمرانوں نے بھی اس بات کا یقین کر لیا اور اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیئے ایک ایک کر کے تمام آیات کو بچوں کے کورسز سے نکال دیا ۔ چونکہ مسلمان بھی ہیں لہٰذا اپنے مسلمان دل کو یہ کہہ کر تسلی دے لی کہ چلو قران میں سے پڑھ لیں گے ۔ اسکولوں میں پڑھانا ضروری نہیں ۔ یہ خیال تک نہیں آیا کہ آخر کافر کیوں یہ چاہتے ہیں کہ یہ آیات بچوں کو نہ پڑھائی جائیں ۔
پچھلی نسلیں آہستہ آہستہ مٹ رہی ہیں اور اگلی نسلیں پروان چڑھ رہی ہیں ۔ نئی نسلیں قران کو بس عربی میں محض خانہ پری کے لیئے پڑھ لیتی ہیں ۔
پچھلے بیس برسوں میں پاکستانی مسلمانوں کے دلوں سے جہاد کو مٹانے کے لیئے کئی محاذوں پر ایک ساتھ کام کیا گیا ۔ نہ صرف تعلیمی نظام سے جہاد کی آیات کا خاتمہ کیا گیا بلکہ تحریک طالبان پاکستان جیسی جماعتیں بنا کر جہاد کو بدنام کیا گیا ۔ مسلمان بچوں کو یہ سکھایا گیا کہ ہر مسئلے کا حل بس امن ہے ۔
اسلام بلاشبہ امن کا ہی مذہب ہے لیکن اسلام کبھی یہ نہیں سکھاتا کہ ہر مسئلے کا حل امن ہے ۔ نہ ہی اسلام ہر مسئلے کا حل جنگ میں تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہے ۔
اسلام دراصل معاملہ شناسوں کا دین ہے ۔ ایک اچھے مسلمان کو اتنی سمجھ بوجھ ہونی چاہیئے کہ کس مسئلے کو امن سے حل کرنا ہے اور کہاں جنگ ناگزیر ہے ۔ وہ کون سے حالات ہیں جن میں کفار سے معاہدہ کر کے جنگ کو ٹالا جا سکتا ہے ۔
اسی قوت فیصلہ کی سب سے زیادہ اہمیت ہے ۔
ہم پر ایک وقت وہ بھی گزرا ہے جب ہم محکوم تھے ۔ ہمارے بزرگوں نے جہاد کیا اور انگریزوں کو یہاں سے نکلنے پر مجبور کیا ۔
کیا خیال ہے آپ کا کہ انگریزوں سے لڑائی میں مسلمانوں کی جان و مال کا نقصان نہیں ہوا تھا ؟ بالکل ہوا تھا ۔ مگر ان قربانیوں کا حاصل یہ ہمارا پیارا وطن ہے ۔ جہاں ہم آزاد فضا میں سانس لیتے ہیں ۔
امن اور معاہدوں کی بات اس وقت کی جاتی ہے جب دو الگ الگ ممالک آپس میں لڑ پڑیں ۔
جب آپ کے ملک پر قبضہ کر لیا جائے تب نہ امن کی بانسری بجائی جا سکتی ہے نہ کوئی معاہدہ ہوتا ہے ۔ تب صرف اور صرف جنگ ہوتی ہے ۔ لڑ کر اپنی زمین واپس حاصل کرنی پڑتی ہے ۔
یہی کام ہم نے آزادی حاصل کرتے وقت کیا تھا ۔ غلام رہتے ہوئے سمجھوتوں اور امن کی بات دانش مندی نہیں بلکہ بزدلی کہلاتی ہے ۔
جو خاتون آج کل موضوع بحث ہیں انہوں نے وضاحت کی ہے کہ مجھے ان بچوں کی فکر ہے جو فلسطین و کشمیر میں کٹ رہے ہیں اور ہم یہاں آپس میں لڑنے میں مصروف ہیں ۔ تو جن مولویوں کو لڑنے کا شوق ہے وہ وہاں جا کر لڑیں یا اس مسئلے کا کوئی حل نکالیں ۔
خاتون کا دینی علم برطرف کہ یہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے ۔ مگر مجھے ان کی سیاسی بصیرت بھی پلے نہیں پڑی ۔ مجھے قطعاً سمجھ نہیں آئی کہ فلسطین کے بچوں کی خاطر جہاد کرنے مولوی کیوں جائیں گے جبکہ حکومت مولویوں کی نہیں ہے ۔
آپ کو فلسطین و کشمیر کے بچوں کا درد ہے تو آپ کے پاس حکومت ہے ۔ فوج ہے ۔ ایٹم بم ہے ۔ میزائل ہیں ۔ ہر قسم کا اسلحہ ہے ۔ مدد کریں ان بچوں کی ۔
اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ مسئلہ جنگ کے بجائے پرامن مذاکرات یا معاہدوں سے حل ہو سکتا ہے تو یہ کام بھی حکومت کا ہے نہ کہ مولویوں کا ۔ لڑائیں کوئی سائنس اور فلسطینیوں کو ان کی زمین واپس دلوائیں ۔ یہودیوں کو سمجھائیں جا کر کہ یہ زمین آپ کی نہیں ہے لہٰذا آپ کو یہاں قبضہ برقرار نہیں رکھنا چاہیئے ۔ ہو سکتا ہے وہ آپ کی بات مان لیں ۔
لیکن اگر آپ کی مراد یہ ہے کہ فلسطینیوں کو ان کی زمین بھی واپس نہ ملے ۔ یہودیوں کا وہاں قبضہ بھی برقرار رہے اور پاکستان اور یہود کے درمیان کوئی معاہدہ ہو جائے تو پھر کیسا فلسطینیوں کا درد ؟
مجھے تو سمجھ ہی نہیں آرہی کہ اس معاملے کا درمیانی راستہ کیا ہو گا ۔ کیا اسرائیل کو سمجھایا جائے گا کہ یہ زمین آپ کی نہیں ۔ یا فلسطینیوں کو سمجھایا جائے گا کہ جو ہو گیا سو ہو گیا ۔ مٹی پاؤ ۔ اب کیوں اپنی اور اپنے بچوں کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہو ۔ امن سے رہو اور یہود کو اپنا حاکم تسلیم کر لو ۔ اسی میں سب کی بھلائی ہے ؟
کیا وہ فلسطینی آپ سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ تم لوگوں نے آزادی کے لیئے جانیں کیوں قربان کی تھیں ؟ہمیں کس منہ سے محکوم بن کر امن سے رہنے کی تلقین کرنے آئے ہو ؟
بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ کفار نہ صرف ہمارے دلوں سے جہاد کی محبت مٹانے میں کامیاب ہو رہے ہیں بلکہ شائد آئندہ نسلیں جہاد کے نام سے نفرت کرنا شروع کر دیں ۔
اللہ ہم سب کو ہدایت دے اور سمجھداری سے فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔